مسائل اور ان کا شرعی حل

ئے سال (New Year) کی آمد پر خوشی منانا

مسئلہ (۲۲): نئے سال کی آمد پر جو خوشی منائی جاتی ہے، اور اس خوشی کے اظہار کیلئے جو افعال اختیار کئے جاتے ہیں مثلاً: پٹاخے پھوڑنا، تالیاں بجانا، سیٹیاں بجانا، ناچ گانا کرنا، Happy New Year کہنا ، یا نئے سال کی مبارکبادی دینے کیلئے موبائل سے ایک دوسرے کو SMS بھیجنا وغیرہ ،یہ سب ناجائز ہیں، اور اس میں شرکت یہود ونصاری کی مشابہت اختیار کرنا ہے، جس پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ (۱) الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما فی ’’ السنن أبی داود ‘‘: لقولہ علیہ السلام:’’ من تشبہ بقوم فہو منہم‘‘۔
(ص: ۵۵۹)
ما فی ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘: عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’’أبغض الناس إلی اللہ ثلثۃ ؛ ملحد في الحرم ، مبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ ، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ ‘‘ ۔ رواہ البخاري ۔ (ص : ۲۷)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۱۲۹)

پہلی جنوری کو سب ایک دوسرے کو خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ہیپی نیو اِیئر(happy new year.)کا میسیج بھی بھیجتے ہیں، تو کیا ہم بھی اس کے جواب میں ہیپی نیو اِیئر کہہ سکتے ہیں؟ کیا ایسا کہنا حرام ہے؟ کیا ایسا کہنے سے ایمان ختم ہو جائے گا؟
Published on: Feb 21, 2017
جواب # 148106
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 528-535/L=5/1438
ہیپی نیو ایر (happy new year) کہنا حرام تو نہیں اور نہ ہی ایسا کہنے سے آدمی ایمان سے خارج ہوتا ہے، تاہم پہلی جنوری کو ہیپی نیو ایر کہنا نصاریٰ وغیرہ کا طریقہ ہے، اس لیے ”ہیپی نیو ایئر“ کہنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اگر شوہر بیوی کو حج فرض سے روکے تو؟


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسمہ تعالٰی
علماء دین ومفتیان کرام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
سوال
ایک ایسی عورت ہے جس پر حج فرض ہے اور وہ حج کرنے کے لئے جانا بھی چہتی ہے پر اس کے شوہر منع کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ اگر تم حج کرنے کے لئے جاؤ گی تو تمہیں تین طلاق اس صورت میں عورت کو کیا کرنا چاہئیے حج کرے یا اپنی شوہر کے ساتھ راہے
برائے مہربانی اس سوال کا جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
عدنان قاسمی کشنگنجوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مِهْرَانَ أَبِي صَفْوَانَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ
سنن أبي داؤد : 1732
حدیث مذکور کی وجہ سے حنفیہ کے صحیح قول کے مطابق فی الفور حج کرنا ضروری ہے۔بلا عذر شدید تاخیر مذموم وناپسندیدہ ہے ۔
فی الغنیۃ یجب ( الحج) علی الفور فی اول سنی الوجوب وھو اول سنی الامکان علی القول الاصح عندنا وھو قول ابی یوسف واصح الروایتین عن ابی حنیفۃؒ فیقدم علی الحوائج الاصلیۃکمسکنہ وخادمہ والتزوج وان لم ئجب بھا کما سیأتی اھ (ص۱)وقال محمد والشافعی فرض علی التراخی وفیہ ایضاً ومن لا مسکن لہ ولا خادم وھو محتاج الیھما ولہ مال یکفیہ لقوت عیالہ من ذھابہ الی حین ایابہ ولہ مال یبلغہ فلیس لہ صرفہالیھما ان حضر وقت خروج اھل بلدہ اھ(ص۷)
( من أراد الحج فليتعجل ) : زاد البيهقي ” فإن أحدكم لا يدري ما يعرض له من مرض أو حاجة ” وفي لفظ ” فإنه قد يمرض وتضل الضالة وتعرض الحاجة . وفيه دليل على أن الحج واجب على الفور . وإلى القول بالفور ذهب مالك وأبو حنيفة وبعض أصحاب الشافعي . وقال الشافعي والأوزاعي وأبو يوسف ومحمد : إنه على التراخي واحتجوا بأنه صلى الله عليه وسلم حج سنة عشر وفرض الحج كان سنة ست أو خمس .عون المعبود۔
فرضیت حج کے بعد سال دو سال تاخیر سے صغیرہ گناہ ہوتا ہے اس کے بعد تاخیر پہ اصرار کی وجہ سے گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے اگرچہ ادائی حج کے بعد تاخیر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں.
شوہر کی اطاعت بیوی پر جائز امور میں واجب ہے چاہے سخت سے سخت معاملہ ہو پھر بھی اطاعت ضروری ہے۔ لیکن اگر فرضیت حج کی ساری شرائط بیوی میں پائی جاتی ہوں تو اب حج فرض سے بیوی کو روکنا جبکہ سطور بالا میں بیان ہوا کہ تاخیر حج گناہ کبیرہ ہے۔ امر معصیت یے۔ اور امر معصیت میں شوہر کی بات نہیں مانی جائے گی۔
فی الصحیح للامام مسلمؒ رقم الحدیث۱۸۳۹ ج۳ ص۱۴۶۹ (طبع دار احیاء التراث العربی) لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ انما الطاعۃ فی المعروف، و فی مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث۳۳۷۱۷ ج۶ ص۵۴۵ (طبع مکتبۃ الرشید ریاض) لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔
اس لئے وہ بیوی محرم شرعی کے ساتھ حج پہ جاسکتی ہے۔ شوہر کے ساتھ رہنا اور اس کی بات ماننا ضروری نہیں۔بعد عدت کہیں اور نکاح کرلے۔۔۔ مغلظہ بائنہ کے وقوع سے بچنے کے لئے کسی شرعی حیلہ اختیار کرنے پہ شوہر راضی ہو تو ویسا کرلے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

خریدار کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر کم قیمت پر خریداری؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
۔۔۔۔۔۔۔۔
گجرات کے بعض علاقوں میں ایک اصطلاح تجار کے یہاں معروف ہے “اچھالا ہوا سامان” اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی آدمی کو ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے وہ رقم کے انتظام کے لیے کوشاں ہے مگر اس کے تعلقات بھی ایسے نہیں ہیں کہ کوئی قرضہ دے نہ ہی سماجی قد ایسا کہ کوئی بھروسہ کرے ۔اب وہ مسکین ایک موبائل کی دوکان پر جاکر دوکان والے قسطوں کے حساب سے ایک موبائل لیتا ہے اور یہ معروف ہی ہے کہ قسطوں پر لی ہوئی چیز نقد یکمشت لی ہوئی چیز کے مقابل کچھ زیادہ دام کی ہوتی ہے اس لیے وہ اٹھارہ ہزار کا موبائل 20 ہزار روپے میں خریدتا ہے اور اپنے قسط مقرر کروا لیتا ہے ۔اب وہ ضرورت مند اس موبائل کو لیکر دوسری موبائل کی دکان پرجاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھ سے ایک نیا موبائل خرید لو جس کی اصل قیمت تو 18 ہزار روپے ہے مگر میں تم کو 15 ہزار روپے میں ہی دیدوں گا ۔۔۔ تم مجھے نقد پیسے دینا یہ دوکان والا بعض دفعہ خوشی سے 15 ہزار دیتا ہے اور کبھی یہ ضرورت مند کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر 12 ہزار ہی میں لینا چاہتا ہے اگر ضرورت سخت ہوتی ہے تو وہ مجبورا 12 ہزار روپے میں ہی دیدیتا ہے
معلوم یہ کرنا ہے کہ دوسرے دوکاندار کا اس طرح کسی ضرورت مند کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کم قیمت پر موبائل وغیرہ لینا درست ہے یا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟
یہ معاملہ موبائل فون کے علاوہ بہت سی چیزوں میں ہوتا ہے اور دوکاندار کے علاوہ بہت سے لوگ اس کام میں معروف ہوتے ہیں جو مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کم قیمت پر سامان لیتے ہیں اور اچھے نفع کے ساتھ فروخت کرتے ہیں
سائل: عبد الباسط جے پور۔ راجستھان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
ایسے مجبور شخص کو قرض حسنہ کے ذریعہ مدد کرنی چاہئے ۔
لیکن اگر کہیں سے قرض نہ ملے تو یہ شخص ادھار مہنگی قیمت کے ساتھ خریداری کرسکتا ہے کیونکہ تجار کا عرف ہے کہ نقد میں کم اور ادھار میں زیادہ قیمت لیتے ہیں اور ایسا کرنا شرعا جائز بھی ہے بشرطیکہ مدت ادھار کے اندر اندر ہی قیمت بتا دیجائے ۔
پہر اس مجبور خریدار کا اپنی رضا ورغبت سے اس چیز کو کم قیمت پہ نقد بیچنا جائز ہے۔ لیکن اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے لوگوں کا اس سے موجودہ قیمت سے کم میں موبائل وغیرہ خریدنا خلاف مروت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔۔۔۔بیع شرعا جائز ہے لیکن ورع وتقوی اور مروت انسانی کے خلاف ہونے کے باعث مکروہ ہے۔
قال العلامۃ القاری: (نہی رسول اللہﷺ عن بیع المضطر)… والثانی ان یضطر الی البیع لدین رکبہ او مؤنۃ ترہقہ فیبیع ما فی یدیہ بالوکس للضرورۃ وہذا سبیلہ فی حق الدین والمروأۃ ان لا یبایع علی ہذا الوجہ ولکن یعار ویقرض الی المیسرۃ او یشتری الی المیسرۃ او یشتری السلعۃ بقیمتہا فان عقد البیع مع الضرورۃ علی ہذا الوجہ صح مع کراہۃ اہل العلم لہ۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ۶:۸۰ باب المنہی عنہا من البیوع)
مستفاد : فتاویٰ عالمگیری، امداد الفتاویٰ: ۳، فتاویٰ دار العلوم)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

شادی اور صحبت کا سنت طریقہ؟

سوال: میری جلد ہی شادی ہونے والی ہے، براہ کرم، نکاح اور شادی کا سنت طریقہ بتائیں تاکہ میں اس پر عمل کرسکوں اور شب زفاف کا سنت کا طریقہ بھی بتائیں۔
Published on: Apr 26, 2014
جواب # 52348
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 765-765/M=6/1435-U
نکاح اور شادی کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جب شادی کا ارادہ ہو بلاکسی خاص برات اور بری وغیرہ کے اہتمام کے چند آدمیوں میں ایجاب وقبول کرادے (جس کی تفصیل یہ ہے کہ نکاح کا مسنون خبطہ پڑھنے کے بعد عورت کا نام مع ولدیت لے کر مرد سے کہے ”میں نے فلاں بنت فلاں کا نکاح تمہارے ساتھ بعوض مہر مبلغ اتنے روپئے کیا“ کیا تم نے قبو ل کیا؟ مرد جواب میں کہے ”میں نے اس کو قبول کیا“۔ خود عورت یا اس کے ولی یا اس کے وکیل کی اجازت کے بعد جب دو گواہوں کے سامنے مرد نے قبولیت کے الفاظ ادا کردیے، نکاح ہوگیا) پھر اگر وسعت ہو تو چھوہارے تقسیم کرایے جائیں۔ دلہن کودولہا کے گھر بھیج دیا جائے اور جو کچھ دلہن کو بطور صلہ رحمی دینا منظور ہو بلا کسی شہرت اور نمود کے خواہ اس کے ساتھ یا بعد میں بھیج دیا جائے۔ مہر حسب استطاعت ہو، شرعاً مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے اس سے کم درست نہیں۔ شب زفاف کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلی ملاقات کے وقت پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے:
اللہم إني أسئلک من خیرہا وخیر ما جبلتہا وأعوذ بک من شرہا وشر ما جبلتہا علیہ
اس کے بعد دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے، نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت کے لیے دعا کریں، بوقتِ صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے، بالکل برہنہ نہ ہو، بقدر ضرورت ستر کھولے، پردہ کا کامل خیال رکھے، کسی کے سامنے حتی کہ بالکل ناسمجھ بچہ کے سامنے بھی صحبت نہ کرے، جب صحبت کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے:
”اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا“
انزال کے وقت دل میں دعا پڑھے:
”اللہم لا تجعل للشیطان فیما رزقتنا نصیبا“،
صحبت سے فراغت کے بعد یہ دعا پڑھے
”الحمد اللہ الذي خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبًا وصہرًا․․
مزید تفصیل کے لیے بہشتی زیور باب (۶) اور ”اسلامی شادی“ کتاب کا مطالعہ کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/52348 …….
براہ کرم نکاح کے بعد بیوی سے پہلی ملاقات سے مباشرت تک کے عمل کا سنت طریقہ پوری تفصیل سے آگاہ کریں۔
Published on: Feb 20, 2014
جواب # 51092
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 433-123/L=4/1435-U
شب زفاف میں پہلی ملاقات کے وقت ابتداءً دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے، نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت، آپسی میل ملاپ کی دعا کریں۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک باکرہ عورت سے نکاح کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے پسند نہ کرے اور دشمن تصور کرے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا محبت اللہ کی طرف سے ہے اور دشمنی شیطان کا فعل ہے، جب عورت تیرے گھر میں آوے تو تو اس سے کہہ کہ تیرے پیچھے کھڑی ہوکر دو رکعت نماز پڑھے، اور تو یہ دعا پڑھ:
اللھُمَّ بَارِکْ لِي فِي أَھْلِی، وَبَارِکْ لَأہْلِيوٴ فِيَّ، اللھُمَّ ارْزُقْنِي مِنْھُمْ وَارْزُقْھُمْ مِنِّی، اللھُمَّ اجْمَعَ بَیْنَنَا إذَا جَمَعْتَ فِيْ خَیْرٍ وَفَرِّقْ بَیْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَی خَیْرٍ․
اس کے بعد بیوی کی پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے۔
اللّٰہُمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ․
شوہر تلطف ومحبت سے پیش آئے، اپنا سکہ اور رعب جمانے کی فکر نہ کرے، اور ہرطرح اس کی دلجوئی کرے کہ عورت کو مکمل سکون اور قلبی راحت حاصل ہو اور ایک دوسرے میں انسیت پیدا ہو۔ جب مباشرت کا ارادہ کرے تو مباشرت سے پہلے عورت کو مانوس کرے، بوس وکنار ملاعبت وغیرہ جس طرح ہوسکے اسے بھی مباشرت کے لیے تیار کرے، اور اس بات کا ہرمباشرت کے وقت خیال رکھے فوراً ہی صحبت شروع نہ کردے اور بوقت صحبت اس بات کا خیال رکھے کہ عورت کی بھی شکم سیری ہوجائے، انزال کے بعد فوراً جدا نہ ہوجائے، اسی حالت پر رہے اور عورت کی خواہش پوری ہونے کا انتظار کرے، ورنہ عورت کی طبیعت پر اس سے بڑا بار پیدا ہوگا اور بسا اوقات اس کا خیال نہ کرنے سے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے جو کبھی جدائیگی کا سبب بن جاتی ہے۔ غنیة الطالبین میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں:
ویستحب لہا الملاعبة لہا قبل الجماع والانتظار لہا بعد قضاء حاجتہ حتی تقضي حاجتہا فإن ترک ذلک مضرة علیہا ربما أفضی إلی البغضاء والمفارقة (غنیة الطالبین: ۹۸) جب صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے اور یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا،
بوقت صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے اور جتنا ہوسکے پردے کے ساتھ صحبت کرے کسی کے سامنے حتی کہ بالکل ناسمجھ بچے کے سامنے بھی صحبت نہ کرے اور بوقت صحبت بقدر ضرورت ستر کھولے، انزال کے وقت دل میں یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ فِیمَا رَزَقْتنَا نَصِیبًا۔
صحبت کے بعد یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہ ُ نَسَبًا وَصِھْرًا․
شب زفاف اور صحبت کے سلسلے کی آپس کی جو باتیں پوشیدہ ہوں کسی سے ان کا تذکرہ نہ کرے یہ بے حیائی اور بے مروتی کی بات ہے۔ (مستفاد: فتاوی رحیمیہ: ۴/ ۲۸۶ تا ۲۸۹ بحوالہ غنیة الطالبین مترجم: ۹۷ تا ۱۰۰ فصل فی آداب النکاح)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
……..
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/51092
سوال # 177
میاں بیوی کے درمیان اورل سیکس کا کیا حکم ہے؟
کیا میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں اور بوسہ دے سکتے ہیں؟
Published on: Feb 1, 2016
جواب # 177
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 184/م=185/م)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
إذا أدخل الرجلُ ذکرَہ فی فم امرأتہ قد قیل یکرہ……
یعنی اگر مرد اپنی بیوی کے منھ میں شرمگاہ کو داخل کرلے تو یہ مکروہ ہے۔ (عالمگیری:5/372)
اس سے معلوم ہوا کہ زوجین کے درمیان اورل سیکس (شرمگاہ کو بوسہ دینا، منھ میں لینا اور زبان لگانا وغیرہ) یہ سب مکروہ فعل اور بے حیائی کی بات ہے۔
ہاں میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں لیکن نہ دیکھنا اولیٰ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal–Haram/177
……
سوال: ایک عورت کی عادت پانچ دن حیض آنے کی ہے، اور ایک مرتبہ چار دن حیض آکر بند ہوگیا؟ حیض بند ہونے پر کیا اس سے ہمبستر ہونا درست ہے؟ ایک عورت کو حیض آیا عشاء کی نماز کے بعد، ٹھیک پانچ دن بعد عشاء کے ہی بعد اس کا حیض بند ہوا، اور اس کی عادت بھی پانچ ہی دن ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس عورت سے مجامعت بغیر غسل کئے درست ہے؟
Published on: Mar 2, 2017
جواب # 148424
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 581-607/L=6/1438
(۱) اگر عورت معتادہ ہے یعنی ہر مہینے اس کو ۵/ دن خون آتا ہے اگر اس کا خون عادت سے پہلے بند ہوجائے تو اس کی عادت مکمل ہونے تک اس سے صحبت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ ایام عادت تک خون کے آجانے کا غالب گمان رہتا ہے۔
وإن کان الانقطاع دون عادتہا وعادتہا دون العشر لایحل وطوٴہا وإن اغتسلت حتی تمضی عادتہا؛ لأن عود الدم غالب۔ (مجمع الأنہر)
(۲) اگر عورت کو حیض اس کی عادت کے موافق بند ہوا پھر تو اس سے اس وقت تک مجامعت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ غسل نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت گذر جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
……….
سوال: کیا حیض ختم ہونے کے فوراً بعد غسل کرنے سے پہلے صحبت کرسکتے ہیں؟
Published on: Jul 22, 2010
جواب # 22731
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):937=937-6/1431
عورت کو ماہواری حیض آنے کی جو عادت مقرر ہے، مثلاً پانچ دن یا سات دن اس عادت کے مطابق خون آکر بند ہوگیا تو جب تک وہ غسل نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت نہ گزرجائے اس سے پہلے صحبت کرنا درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/22731
……
سوال # 62673
ایک عورت کو ہر مہینہ تین دن کے اندر حیض کا خون آنا بند ہوجاتاہے، ماہواری کے چوتھے دن ایک قطرہ خون بھی نظر نہیں آتاہے تو کیا وہ چوتھے دن اپنے شوہر کے ساتھ مباشرت کرسکتی ہے؟ یا اس کو پانچ یا سات دن تک انتظار کرنا چاہئے؟
Published on: Jan 7, 2016
جواب # 62673
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 141-141/Sd=3/1437-U
اگر مذکورہ عورت کی عادت تین دن خون آنے کی ہے ، تو تیسرے دن خون بند ہونے کے بعد شوہر کے لیے اُ س وقت مباشرت جائز ہے ، جبکہ وہ عورت خون بند ہونے کے بعد غسل کر لے یا اُ س کے ذمہ ایک نماز قضاء ہوجائے، یعنی: خون بند ہونے کے بعد اُ س پر اتنا وقت گذر جائے کہ وہ غسل کر کے نماز کی تحریمہ کہہ سکے ،تو ایسی صورت میں غسل کے بغیر بھی اس سے مباشرت جائز ہے ، عادت کے مطابق خون بند ہونے کے بعد مباشرت کے لیے مزید پانچ سات دن انتظار کرنا ضروری نہیں ہے۔
وان انقطع دمہا قبل أکثر مدة الحیض أو لتمام العادة في المعتادة بأن لم ینقص عن العادة ، فانہ لا یجوز وطوٴہا حتی تغتسل أو تتیمم أو أن تصیر الصلاة دیناً في ذمتہا، وذلک بأن یبقی من الوقت بعد الانقطاع مقدار الغسل والتحریمة ، فانہ یحکم بطہارتہا بمضي ذلک الوقت، ولزوجہا وطوٴہا بعدہ ولو قبل الغسل۔ (الموسوعة الفقہیة، مادة:حیض، رد المحتار:۱/۲۹۴، کتاب الطہارة، باب الحیض)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/22731
…..
سوال # 398
حیض کے آخری دن غسل سے قبل کیا میاں بیوی ہم بستر ہوسکتے ہیں؟ کیوں کہ اس کا حیض تو ختم ہوچکا۔ یا یہ ضروری ہے کہ ہم بستر ہونے سے قبل بیوی غسل حیض سے فارغ ہوجائے؟

Published on: May 10, 2007
جواب # 398
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 496/ج=496/ج)
اگر حیض کا خون پورے دس دن اور دس رات آکر بند ہوا ہے تو ہم بستری جائز ہونے کے لیے عورت کا غسل کرنا ضروری نہیں، غسل سے پہلے بھی ہم بستر ہوسکتے ہیں۔ اور اگر دس دن اور دس رات سے کم اس کی عادت کے مطابق مثلاً چار یا پانچ دن آکر بند ہوا ہے تو جب تک وہ غسل حیض نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت نہ گذرجائے یعنی ایک نماز اس کے ذمہ قضاء نہ ہوجائے تب تک ہم بستر ہونا جائز نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Womens-Issues/398
………..
سوال # 63712
(۱) میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں پہلے مشت زنی کرتا تھا، لیکن نماز پڑھنے سے یہ عادت بہت کم ہوگئی ہے، مگر اب بھی کم از کم ایک مہینہ بعد یا دس دن بعد پھر سے شوق آنے لگتاہے اور میں کنٹرول نہیں کرپاتا ہوں اور لڑکیوں کے ننگے فوٹو کو دیکھتا ہوں۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کبھی کبھی چھوٹی لڑکیوں کو دیکھ کر گندے خیالات ذہن میں آجاتے ہیں اور عضوٴ خاص اٹھنے لگتاہے، لیکن میں کنٹرول کرلیتا ہوں، مگر پھر بھی شیطان مجھ پر حاوی رہتاہے، میں کیا کروں ؟ مجھے کوئی حل بتائیں؟
(۲) ایک اورمسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی چھوٹی لڑکی پاس آجاتی ہے یا گود میں بیٹھ جاتی ہے تو غلط خیالات تو ذہن میں نہیں آتے، لیکن عضوٴ خاص خود بخود اٹھنے لگتا ہے، اس سے سخت غصہ آتا ہے کہ کسی غلط خیال کے بغیر عضوٴ خاص آٹھنے لگتا ہے۔ براہ کرم، اس کا کوئی حل بتائیں۔ مہربانی ہوگی آپ کی۔
Published on: Feb 1, 2016
جواب # 63712
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ل): 1567=1070-10/1432
(۱) آپ مزید ہمت کریں، ان شاء اللہ مشت زنی کی عادت بالکلیہ ختم ہوجائے گی، مشت زنی شرعاً حرام ہے اور شرعی وطبی ہرلحاظ سے مضر ہے، مشت زنی چھوڑنے کے لیے آپ اولاً غلط تصاویر دیکھنا چھوڑدیں اور نیکوں اور اللہ والوں کی صحبت اختیار کریں، اگر شادی نہ ہوئی ہو تو کوشش کرکے شادی کرلیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو روزہ کی کثرت کریں اس سے بھی قوت شہوانیہ مغلوب ہوجاتی ہے اور سوتے وقت بجائے ادھر ادھر کے خیالات لانے کے ہاتھ میں تسبیح لے کر درود شریف پڑھتے رہیں، ان شاء اللہ آپ سے یہ عادت چھوٹ جائے گی۔
(۲) اس کا حل بھی وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا نیز شہوت کے اندیشہ کے وقت آپ چھوٹی بچی کو ہاتھ میں نہ لیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
.http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal–Haram/63712
………..
سوال # 270
میں مشت زنی کے متعلق ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اسلام میں مشت زنی جائز ہے؟ اگر ہاں، تو کن آیات و احادیث سے ثابت ہے؟ اگر نہیں تو کن آیات و احادیث کی رو سے منع ہے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور معیار، شرط ، ضابطہ یا ضرورت ہے جس کی بنیاد پر مشت زنی کی اجازت ہو؟
Published on: Apr 30, 2007
جواب # 270
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 379/ب=379/ب)
قرآن پا ک میں ہے
وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَo اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ
اس آیت کے تحت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہر ی میں لکھا ہے کہ آیت خود دلیل ہے مشت زنی کے حرام ہونے پر۔ پھر ابن جریج کا قول نقل کیا کہ انھوں نے حضرت عطاء سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مکروہ بتایا اور پھر فرمایا میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اورحضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عذاب دیں گے جو اپنے ذَکر کے ساتھ کھیل کرتے تھے۔ ارو ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ناکح الید ملعون یعنی مشت زنی کرنے والا ملعون ہے۔ ہاں اگر کوئی زنا میں مبتلا ہوجانے کا قوی اندیشہ رکھتا ہے تو زنا سے بچنے کے لیے مشت زنی کرلے تو امید ہے کہ اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (ملاحظہ فرمائیں تفسیر مظہری، ج:5، ص:۳6۵) اور در مختار)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal–Haram/270
…………
اپنی بیوی سے صحبت(جماع) کے آداب
جس طرح اسلام کے روشن اور پر نور انقلاب نے ایک ہی وار میں جاہلیت کے دور کی تمام بے حیائی اور بے راہ روی کو مٹا دیا اور اُس کی جگہ دنیا میں شرعی نکاح کو پیش کر دیا۔
جس طرح اجتماعی سطح پر نکاح کی پاک سنت ایک طریقہ ٹھہرا۔ اسی طرح نکاح کے بعد ہمبستری یا جماع کے آداب بھی پیش کئے گئے۔ ان آداب کا سیکھنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔
صحبت کے آداب:
1۔ پہلی بار جب دلہن اپنے دلہا کے ساتھ یکجا ہوتی ہے تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے شوہر اپنی بیوی کے پیشانی کے بال پکڑے، بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ دعا کریں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ
(“اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا , اور تجھ سے اس کی برائی ,اور اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا “)
2۔ دولہا کو چاہئے کہ شب زفاف میں اپنی بیوی کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے۔ ایسا کرنے سے دونوں کی ازدواجی زندگی ہر نا پسند یدہ چیز سے محفوظ رہے گی .
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کا بیان ہے کہ” جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو تم اُسے کہو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے, اور یہ دعا کرو
(اللهم بارك لي في أهلي ,وبارك لهم فِيَّ ,اللهم اجمع بَيننا ما جمعت َبِخير ,وفرِّق بيننا إذا فرَّقت إلي الخير)
” اے اللہ میرے لئے میرے اہل میں برکت عطا فرما . اور ان کے لئے مجھ میں برکت عطا فرما , اے اللہ! جب تک ہمیں اکھٹا رکھے خیر پر اکھٹا رکھ, اورجب ہمارے اندر جدائی ہو تو خیر ہی پر جدائی کر ” (طبرانی ,علامع البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اثرکوحسن کہا ہے )
3۔ مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہمبستری کی دعاؤں کا اہتمام کرے , ایسا کرنے سے صحبت سے پیدا ہونے والا بچہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا , حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا
( لو أن أحدکم إذا أتی أھلہ قال: بسم الله ,اللهم جنبنا الشيطان , وجنب الشيطان ما رزقتنا , فقضى بينهما ولد , لم يضره الشيطان أبدا )
“اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے
( بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ) ”
اے اللہ !تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ, اور تو ہمیں جو اولاد عطا کر اسے بھی
شیطان سے بچانا ” تو اُن کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان اُسے کبھی ضرر نہیں پھنچا سکے گا ” (صحیح بخاری وصحیح مسلم )
4۔ جماع کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ضروری ہے۔ اس میں بہت زیادہ برکت ہے۔(اور یا اوپر زکر شدہ دعا)
5۔ جماع کے وقت بالکل ننگا ہونا ممنوع ہے۔ اس سے میاں، بیوی اور بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ میاں بیوی اپنے اوپر کوئی پردہ وغیرہ ڈال کر صحبت کریں۔ اپنی انسانی کرامت کا خیال رکھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جانوروں کی طرح اپنے آپکو برہنہ نہ کرو”
6۔ حیض (عورت کو ماہواری کا خون آنا) اور نفاس (ولادت کا خون) کی حالت میں بیوی کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے۔ اسلئے کہ حیض کے معنیٰ پلیدی یا زخم کے ہیں۔ ان دنوں میں حائضہ عورت رحم کا ناپاک خون گراتی ہے جس سے درد اور تکیف بھی ہوتی ہے۔ ان دنوں میں بیوی کے ساتھ جماع مردوں کیلئے بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ عورت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔
اسی طرح نفاس اور ولادت کے بعد ناپاک خون نکلتا ہے۔ ایسی حالت میں بھی عورتیں سخت ازیت سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں بھی مرد اور عورت کا صحبت کرنا سخت نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ ایک ساتھ سونا، کھانا کھانا، وغیرہ جیسے امور سب جائز ہیں۔ دورِ جاہلیت کی طرح نہیں کہ جس میں ایامِ حیض و نفاس میں بیوی سے نفرت کی جاتی تھی۔
7۔ اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی طرف ( پاخانے کی جگہ) صحبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔
بہت بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ ایسا کام جانور بھی نہیں کرتے۔ اسی گناہ کی وجہ سے قوم لوط ہلاک ہوئی۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : ” وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف جماع کرے” (رواہ ابوداود، احمد)
8۔ اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت ایک راز ہے۔ اس راز کا فاش کرنا بڑا گناہ اور بڑی بے غیرتی اور بے حیائی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک وہ شخص بدترین درجے میں ہوگا جو بیوی سے جماع کرنے کے بعد اس کا راز افشاء کرے” (رواہ مسلم)
نوٹ: اور باتیں بھی ہیں۔ لیکن جو ضروری باتیں تھی وہ یہاں لکھ دیں۔

مریض کو وینٹیلیٹر پر رکھا جائے یا ہٹا دیا جائے، شریعت کا کیا حکم ہے؟


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
سوال: ایک مریض وینٹی لیٹر پر ہے اور ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹرسے ہٹانے پر کچھ دیر میں سانس چلنا بند ہو جائیگی اور وینٹی لیٹر پر رہنے سے کچھ دن مزید سانس چلتی رہے گی.
تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کو ایسی حالت میں وینٹی لیٹر پر سے ہٹا لینا جائز ہے یا نہیں؟
ورثاء صاحب استطاعت ہیں کہ وینٹی لیٹر پر رکھے رہنے کے اخراجات اٹھانے کے متحمل ہیں بینوا توجروا فقط
المستفتی ادارہ تحقیق المسائل الہ آباد یوپی انڈیا

الجواب: حامداومصلیاومسلما:
اولا اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ وینٹیلیٹر کیا کام کرتا ہے، اس مشین کا کام یہ ہے کہ جب انسان کے پھیپھڑوں میں آکسیجن منتقل کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے تو وینٹیلیٹر کے ذریعہ پھیپھڑوں میں آکسیجن پہونچایا جاتا ہے پھر یہاں سے آکسیجن دل کے خون میں پہونچتا ہے اور پھر خون پورے بدن میں گردش کرتا ہے.
واضح رہے کہ عوام میں یہ بات قطعا غلط پھیلی ہے کہ وینٹیلیٹر لگانےکا مطلب انسان کا آخری وقت ہے، کیوں کہ دسیوں بار ایسا ہوا ہے کہ وینٹیلیٹر کے بعد انسان صحت مند ہوکر گھر لوٹا ہے، بعض مرتبہ وینٹیلیٹر وقتی طور پر طاقت پہنچانے کے لئے لگایا جاتا ہے کہ جب اسکی ضرورت ختم ہوجاتی ہے توپھر آدمی کا دل اور پھیپھڑے اپنے بل پر کام کرنا شروع کردیتےہیں.
اور بعض مرتبہ آدمی کا دل اور پھیپھڑے اتنےکمزور ہوجاتے ہیں کہ وینٹیلیٹر کے بغیر دل سے سارے بدن میں خون پہونچانا مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ پھیپھڑے دل کے خون تک آکسیجن پہونچا نہیں پاتے اب اگر وینٹیلیٹر ہٹا لے تو دل اور پھیپھڑےآہستہ آہستہ کام کرنا بند کردیتے ہیں اور انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے.
اب صورت مسؤلہ میں ڈاکٹر سے واضح طورپر پوچھا جائے کہ وینٹیلیٹر کے ذریعہ پھیپھڑے اور دل کی قوت لوٹ آنے کا یقین ہے یا نہیں؟ اگر ڈاکٹر یہ جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں اعضاء اتنے کمزور ہوگئے کہ وینٹیلیٹر کے بعد آہستہ آہستہ کام کرنا بند کردیں گے تو اس صورت میں بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہسپتال میں انتقال ہو اس کی بہ جائے گھر پر کلمہ طیبہ اور قرآن مجید کی اواز کان میں جارہی ہو، ایسی حالت میں موت ہو.
اور اگر ڈاکٹر جو کہ امانت دار ہو ( بلاوجہ وینٹیلیٹر پر رکھ کر بل بڑھانا نہ چاہتا ہو) کہتاہے کہ دوبارہ صحتمند ہونے کا یقین ہے تو وینٹیلیٹر پر رکھا جائے اور کوشش جاری رکھیں.
فقط والله تعالى أعلم وعلمہ اتم واحکم.
کتبہ: مفتی جنید بن محمد عفی عنہ پالنپوری
دارالافتاءوالإرشاد، مجلس البرکہ (کولابہ، ممبئی)
مؤرخہ ٢٤ ربیع الاول ١٤٣٩ ہجری
muftijunaid1979@gmail.com
9820992292

کریڈٹ کارڈ تعارف اور فقہی جائزہ

تاریخِ انسانی سے واقفیت رکھنے والے اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں کہ سولہویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد وجود پانے والا مغربی نظام تمام شعبہ ہائے زندگی میں طرح طرح کی نئی تبدیلیوں کا باعث بنا، نئی ایجادات نے انسان کو جدید سے جدید تر کی دوڑ میں لگا دیا، جس کی وجہ سے نئے سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظریات وجود میں آگئے، مذہب کو نجی معاملہ قرار دے کرعملی طور سے اسے انسانی زندگی سے بے دخل کیا گیا، سرمایادارانہ سوچ و فکر کے حامل چند لوگوں نے نئے سیاسی نظام جمہوریت کی چھتری تلے تمام عالم کی اقتصادیات کو اپنے ذاتی مفادات کا تابع بنالیا؛ حتیٰ کہ یہ چند مٹھی بھر سرمایہ دار اپنی اقتصادی طاقت کے بل بوتے پر بڑے بڑے ملکوں کی سیاست و سیادت پر حاوی ہو چکے ہیں۔اس محدود سرمایہ دار طبقہ کی یہ مسلسل کوشش ہے کہ مادی ترقی اور جدید سے جدید ایجادات کا تسلسل قائم رہے؛ تاکہ انسانی معاشرہ ان کے دیے ہوئے نئے سیاسی اور معاشی نظام کے تحت ان کی اغوا کاری کاشکار رہے اور معاشیات و اقتصادیات سمیت پورا معاشرتی نظام ان کے زیر اثر رہ سکے؛ چناں چہ جدید مادی تجربات اور تجزیوں نے انسانیت پر ایسا نشہ طاری کردیا ہے کہ وہ ضرورت و حاجت اور کمال کے مابین فرق کرنا بھول گئے، بازار میں جو نئی چیز آگئی اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اورخریدتے جاتے ہیں، خواہ ان کی مالی و اقتصادی حالت اور مالی بجٹ اس کی اجازت نہ دیتا ہو۔
سرمایہ دارانہ قوت نے نہ صرف انسانوں کی محنت اور فکر سے تیار کردہ موجودہ تمام اشیاء پر تسلط جمایا ہوا ہے، بلکہ آئندہ وجود میں آنے والی چیزوں کو بھی نگل جانے کے لیے تیار بیٹھی ہے، اس سرمایہ دارانہ قوت و طاقت نے نہ صرف مزدور و متوسط طبقے کو اپنا غلام بنا لیا ہے؛ بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ انسانی محنتوں پربھی قابض نظر آتی ہے، اسی پر بس نہیں؛ بلکہ مستقبل میں انسان کو غلام بنانے اور اس کی کمائی ہوئی دولت اس کے ہاتھ میں آنے سے پہلے قبضہ کرلینے کی غرض سے عالمی سطح پر قرض لین دین کو انتہائی آسان اور عام بنا دیا گیا۔سرمایہ دار نے اپنی دو دھاروں سے انسانی سرمایہ کو ذبح کردیا ہے، ایک طرف تو اس نے سامان اور خدمات وغیرہ کو فروخت کرکے نفع کمایا، تو دوسری طرف تاخیر کی صورت میں سود بھی وصول کرنا شروع کردیا، لہٰذا سرمایہ دار نے یہ کوشش کی کہ خرچ کو آسان سے آسان تر بنا دیا جائے، چناں چہ اس غرض سے اصل زر سونا، چاندی کی جگہ کاغذی نوٹ اور بینک کی چیک کو رواج دیا گیا، پھر مزید اس میں نت نئی شکلیں ایجاد کی گئیں، حیرت انگیز ترقی یافتہ الیکٹرونک ایجادات اور نہایت تیز رفتار مواصلات کے ذریعہ قرض لین دین سہل اور آسان بنانے کے لیے مختلف کارڈ مارکیٹ میں لائے گئے، جن میں اے ٹی ایم کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، چارج کارڈ اور کریڈٹ کارڈ زیادہ مروج ہیں؛ تاکہ زیادہ سے زیادہ خرچ کو ممکن بنایا جاسکے، دوسری طرف تاخیر کی صورت میں مزید رقم وصول کرنے کا موقع فراہم ہوجائے، غرض اس سب کا مقصدمحض انسانیت کی خدمت نہیں؛ بلکہ اس سے غرض یہ ہے کہ دنیا کاخرچ اس کی پیداوار سے بڑھ جائے اور وہ بالآخر اپنا سرمایہ اور وجود پوری طرح ان سرمایہ داروں کے پاس گروی رکھنے پر مجبور ہو جائے۔
کریڈٹ کارڈکے وجودمیں آنے کی وجہ اوراس کی ضروت کیوں پیش آئی؟
اس بات کوعلماء اورمعاشیات کے ماہرین نے مختلف اندازاورتعبیرات میں بیان کیا ہے، حضرت مولانامفتی محمدتقی عثمانی صاحب مدظلہ صحیح بخاری کی درسی تقریر”انعام الباری، ، میں ”کریڈٹ کارڈکی ضرورت کیوں پیش آئی“ کے عنوان سے فرماتے ہیں:
”پہلے یہ سمجھ لیں کہ کریڈٹ کارڈکی ضرورت کیوں پیش آئی؟وجہ اس کی یہ ہے کہ چوری، ڈاکے بہت ہونے لگے ہیں، اگرکوئی آدمی گھرسے نکلے اور اسے لمبی چوڑی خریداری کرنی ہو، اب اگروہ جیب میں بہت سارے پیسے ڈال کرلے جائے، تو خطرہ ہے کہ ڈاکہ پڑجائے، کوئی چھین لے جائے، خاص طور پر اگر کہیں سفرپرجارہاہوتوہروقت اپنے پاس بڑی رقم لے کرپھرنے میں بہت خطرات ہیں؛ اس لیے اس کاایک طریقہ نکالاکہ بینک ایک کارڈجاری کرتاہے، جس کوکریڈٹ کارڈ کہتے ہیں“۔ (۱)
بعض حضرات نے اسے نئے معاشی نظام کانتیجہ قرار دیا ہے۔(۲)فقہ اکیڈمی ہندکی طرف سے جوسوالنامہ کریڈٹ کارڈپربحث کے حوالے سے مرتب کیاگیاتھااس میں گلوبلائزیشن اوراس کے نتیجے میں معیشت و تجارت میں رونماہونیوالے اثرات اوررقوم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی حاجت وضرورت کوکریڈٹ کارڈکے وجودمیں آنے کاسبب بتایاگیاہے(۳)، یہی مذکورہ بالا وجہ مولانا خالد سیف الله رحمانی صاحب نے بھی کریڈٹ کارڈکے حوالے سے اپنے مقالہ میں بھی تحریرکی ہے(۴)، ڈاکٹروہبہ مصطفی زحیلی صاحب کریڈٹ کارڈ پراپنے مقالہ ”بطاقات الائتمان“ میں اسے سماجی اورمعاشی انقلاب قراردیا ہے۔(۵)
بہرحال کریڈٹ کارڈکے وجودمیں آنے کی جووجہ بھی بیان کی جائے وہ اپنی جگہ ہے؛ لیکن اتنی بات توسب میں قدرے مشترک اورمسلم ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں وجودپزیر ہوا ہے؛ کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ذاتی منافع کے محرک کوبے لگام گھوڑے کی طرح آزاد چھوڑا گیا، جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنے کے لیے نت نئے طریقے اختیارکیے گئے، سرمایہ دارکے استحصالی دماغ نے لوگوں کے سرمایہ کوسمیٹنے کے لیے بینکنگ کے نظام کومتعارف کروایا، اسی پر بس نہیں؛ بلکہ آئے دننئے ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام الناس کاخون نچوڑا جا رہا ہے، یہ کیسے ہورہاہے، اس بارے میں شیخ محمدمختارسلامی صاحب، مفتی اعظم تیونس نے تفصیلی گفتگو کی ہے، وہ کریڈٹ کوعصرحاضرکی حیرت انگیزترقی یافتہ الیکٹرونک ایجادات اور تیز رفتار مواصلات کاشاخصانہ قراردیتے ہیں۔(۶)
تاریخ اور پس منظر:
”بیت التمویل الکویتي“کی طرف سے کریڈٹ کارڈکی تاریخ کچھ یوں بیان کی گئی ہے: ”پیمنٹ کارڈ(Payment Card)جاری کرنے کی طرف پہلا قدم امریکی ریاستوں میں ویسٹرن یونین(Western Union) نامی کمپنی نے اٹھایا، اس کمپنی نے ۱۹۱۴/ میں اپنے بعض خاص کسٹمرزکوواجبات کی ادائیگی (Payment) میں مہلت وسہولت فراہم کرنے کی غرض سے ایک کارڈجاری کیا۔ ۱۹۱۷/ میں بعض بڑے ہوٹلوں، کاروباری مراکز، پیٹرولیم کمپنیوں اوراسٹیل ملز (Steel Mils)نے وسیع پیمانے پرخاص طرزکے کارڈجاری کیے، جوصرف انہی مذکورہ بالااداروں میں استعمال کیے جاسکتے تھے، اسی بنیادپر۱۹۲۴/ کوجنرل پیٹرولیم کارپوریشن (Genrel Petroliam Cord) نے عمومی سطح پرکیلی فورینا میں ایک حقیقی کریڈٹ کارڈجاری کیا؛ تاکہ اس کمپنی سے پیٹرولیم موادخریدنے والے کسٹمرزاس کارڈکی بنیادپرفی الفورادائیگی کے بجائے بعدکی مقرر تاریخوں میں پیمنٹ (Payment) کرسکیں۔(۷) ۱۹۲۴/ کے بعد ڈنرزکلب(Diner’s Club)کے نام سے جوکمپنی نے کریڈٹ کارڈجاری کیا، اس کی ابتدا کے بارے دوقول ہیں، بعض حضرات جیسے ڈاکٹر بکربن عبدالله ابوزید (۸)رکن اللجنة الدائمة للإفتاء والبحوث اورڈاکٹرمحمدعلی القری بن عید(۹) رکن مرکزأبحاث الاقتصاد الإسلامی، جامعة الملک عبدالعزیز، جدہ اور جناب فتحی شوکت صاحب، نابلس فلسطین(۱۰)کے نزدیک (Diner’s Club)کے نام سے کارڈ جاری کرنے والی کمپنی ۱۹۴۹/ میں قائم کی گئی، ابتداء اس کمپنی نے صرف شام کاکھانا ہوٹلوں پر کھانے والوں(Diner’s )کے لیے کارڈکااجراء کیا۔(۱۱)
Diner’s Club کے بعدامریکن ایکسپریس (American Express ) اورکارٹ بلانچ (Carte Blanch) میدان میں آئے، پھر۱۹۵۱/میں بینکوں نے اس طرف پیش قدمی کی، نیویارک، امریکہ میں فرانکلین نیشنل بینک (Franklin National Bank)نے کریڈٹ کارڈجاری کیا، کریڈٹ کارڈکے ذریعہ ادائیگی کے نظریہ کی کامیابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسال کے قلیل عرصہ میں صرف امریکہ کی مختلف ریاستوں میں سو(۱۰۰)کے قریب بینکوں نے کارڈجاری کرناشروع کیا۔۱۹۵۵/ میں(First Nationat Bank of Bostan)نے (Ckeek Credit plan’s)کے نام سے کریڈٹ کی دنیا مین ایک نیا پلان پیش کیا، جس کی وجہ سے کریڈٹ کارڈنے مزیدترقی کی راہیں طے کیں، اس خاص پلان کا مقصدبینکوں کے صارفین کومشینوں کے ذریعے بسہولت قرضے فراہم کرنا تھا، بینکوں نے اس حوالے سے مزیدپیش رفت کی، یہاں تک کارڈہولڈرکی طرف سے جاری ہونے والے چیک(Cheque Guarantee Card) اوراس میں لکھی ہوئی رقم کی ادائیگی کی ضمانت بھی بینکوں نے قبول کرنی شروع کر د ی۔(۱۲)۱۹۵۹/ میں امریکہ کے سب سے بڑے بینک(Bank of Amrica) نے بھی کریڈٹ کارڈجاری کرناشروع کیا۔(۱۳)اسے (Chase Bank) کاتعاون بھی حاصل تھا، ان دونوں بینکوں کا اشتراک (Chase Manhatten)کے نام سے جانا جاتا تھا۔(۱۴) Bank of Amricaنے کارڈکی مانگ اورچلت کودیکھتے ہوئے دیگربینکوں کے تعاون سے (National Bank America Card Crop) کے نام سے”کریڈٹ کارڈ“جاری کرنے اوراس کے تمام معاملات کے لیے ایک اور ادارے کوقائم کیا۔(۱۵)بینکوں کے اسی مذکورہ تعاون اورباہمی اشتراک کے نتیجے میں ماسٹر کا ر ڈ وجودمیں آیا، جو(First National Bank of tuisuiolle)کی ملکیت تھا، اس کارڈکوعوام کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔(۱۶) Master Card کی شاندارکامیابی کے بعد۱۹۷۷/ میں بعض بینکوں نے باہمی تعاون اشتراک کے نام سے(Visa Carporation)کے نام سے ایک اورادارہ بنایا، جو (Visa) کے نام سے کریڈٹ کارڈاوردیگرکارڈجاری کرنے لگا۔(۱۷)اس دوران عالمی سطح پر کریڈٹ کارڈزنے رواج وشہرت پائی، امریکن ایکسپریس (American Express) ماسٹر کارڈ (Master Card) یورو کارڈ (Euro Card)وغیرہ۔(۱۸)کریڈٹ کارڈکی بے انتہامقبولیت، شہرت اوررواج نے کارڈجاری کرنے والے اداروں کوبین الاقوامی کمپنیوں کامقام دیا، یہاں تک کہ ان کمپنیوں نے خودکارڈجاری کرنے کے بجائے، مختلف کارڈجاری کرنے والے بینکوں کو ممبر بنانا شروع کیا، ممبرکواس حوالے سے اصول وضوابط بناکردیئے، اورکریڈٹ کارڈکے معاملات کی نگرانی کے بدلے یہ کمپنیاں ممبربینکوں سے کمپنی کے نام سے کارڈجاری کرنے پراجرت وصول کرتی ہیں۔(۱۹)
کارڈ جاری کرنے والی کمپنیوں کا تعارف:
عالمی سطح پرمذکورہ بالاکمپنیاں براہ راست یا بینکوں کے واسطے سے مختلف نوعیت کے کریڈٹ کارڈجاری کرتی ہیں، ان میں سے بعض کاتعارف ذیل میں پیش کیاجاتاہے۔ ویزا انٹرنیشنل (Visa International)”ویزا“(Visa)ایک ایسی تنظیم اورکمپنی کانام ہے، جودنیاکے مختلف خطوں میں موجودممبربینکوں کوکریڈٹ کارڈزکے حوالے مختلف انواع کی خدمات مہیاکرتی ہے، بینکوں کے داخلی نظام میں دخل دیے بغیرمذکورہ بالاکمپنی فیس لے کران کی رہنمائی کرتی ہے۔”ویزا“کے دوبڑے شعبے ہیں:( الف)- U.S.A Visaیہ امریکہ میں”ویزا“کے نام سے کریڈٹ کارڈکے معاملات کوسنبھالتی ہے۔(ب)- ویزاانٹرنیشنل (Visa International) یہ بین الاقوامی اورعالمی سطح پرخدمات انجام دے رہی ہے، دنیاکے ۱۳۶سے زائدممالک میں اس کی برانچیں ہیں۔(۲۰)ویزاانٹرنیشنل تین طرح کے کارڈجاری کرتی ہے:
۱- بطاقة الفیزا الفضیة(Visa Silver Card)۲- بطاقة الفیزاالذہبیة(Visa Goldend Card)۳ – بطاقةا لفیزاالإلکترون(Visa Electronic Card)۔(۲۱) امریکن ایکسپریس(American Express) یہ عالمی سطح کاایک بہت بڑابینک اورمالیاتی ادارہ ہے، بینکوں سے متعلق مالیاتی امورکی ادائیگی کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ کارڈبھی جاری کرتاہے، امریکن ایکسپریس کے نام سے مشہورومعروف ہے۔امریکن ایکسپریس تین طرح کے کارڈجاری کرتاہے،۱-امریکن ایکسپریس گرین کارڈ(American Express Green Card)، ۲-امریکن ایکسپریس گولڈن کارڈ(American Express Golden Card)، ۳-امریکن ایکسپریس ڈائمنڈکارڈ(American Express Dionamd Card)․(۲۲) ماسٹرکارڈ(Master Card):ماسٹرکارڈانٹرنیشنل مارکیٹ میں ایک جاناپہچانااورمعروف نام ہے، ۲۳۰۰ سے زائدمالیاتی ادراوں کواپنے صارفین سے معاملات کرنے میں ماسٹر کارڈکاتعاون حاصل ہے۔”ماسٹرکارڈاورویزاکارڈ“کے (۲۰۰۰۰)سے زاائدمالیاتی ادارے ممبر ہیں، جو دنیا کے مختلف اطراف واکناف میں صارفین کوسہولیات فراہم کررہے ہیں۔اسیس پرائیویٹ لمیٹڈ (Access Private Limitde): برطانیہ میں کارڈجاری کرنے اوران کے ذریعے مالیاتی لین دین میں بینکوں کومرکزی حیثیت حاصل ہے، ایک کمپنی جواسیس پرائیویٹ لمیٹڈکے نام سے مشہور ہے، چاربرطانوی بنکوں کے باہمی تعاون سے وجودمیں آئی ہے، وہ چار بینک درج ذیل ہیں: ۱-لویڈس بینک(Lovidas Bank)۲-میڈلانڈبینک(Maidelande Bank) ۳-نارتھ ویسٹرتھ بنک(North Whersth Bank) ۴-نیشنل بینک آف اسکاٹ لینڈ (National Bank of Iskatland) ․(۲۳)
بارکلیزکارڈ (Bar Clay’s Card):
بارکلیزکارڈکے نام سے یہ کارڈبھی برطانیہ کاایک بینک بارکلیزبینک جاری کرتاہے، ان دونوں کمپنیوں نے اپنے کارڈوں کی مانگ اورچلت کی وجہ سے انھیں عالمی حیثیت دینے کی پالیسی اپنائی، (Access)نامی کمپنی نے ماسٹر کارڈ انٹرنیشنل سے اس حوالے سے معاہدات کیے، جس کے نتیجے میں جہا ں جہاں ماسٹر کارڈ کوقبول کیا جاتا ہے، وہاں پرAccessوالوں کاکارڈبھی استعمال کیاجانے لگا، اس طرح بارکلیزبینک نے ویزا (Visa)کمپنی سے تعاون حاصل کیا، اوراپنے صارفین کو انٹرنیشنل سطح پر”ویزا“کے مراکز اور ”ویزا“کارڈکی طرح کارڈاستعمال کرنے کی سہولت فراہم کی، لہٰذا جہاں بھی ”ویزا کارڈ“ مستعمل ہے وہاں پربارکلیزکارڈکے ذریعے بھی خریدوفروخت اور دیگر سہولیات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
کریڈٹ کارڈکی لغوی تعریف:
کریڈٹ کارڈکوعربی میں ”البطاقة الائتمانیة“ کہتے ہیں، چوں کہ عربی میں یہ دوجملوں سے مل کربناہے؛ لہٰذا ان میں سے ہرایک کی علیحدہ تعریف کے بعد پھر مجموعہ کی تعریف ذکرکی جائے گی۔
بطاقة کی تعریف:
بطاقة کی جمع بطاقات ہے، کتابة کے وزن پر، جیسے کہ صاحب تاج العروس نے ذکرکیاہے، بعض حضرات کہتے ہیں کہ ”البطاقة بمعنی الورقة“کاغذکے چھوٹے سے ٹکڑے کوکہاجاتاہے، جب کہ علامہ جوہری کہتے ہیں کہ کپڑے پر چسپاں اس رقعے کوکہاجاتاہے جس میں سامان کی قیمت، وزن یاعدد مذکورہوتاہے، لعض حضرات اسے مصری زبان کالفظ قراردیتے ہیں، جب کہ دوسرے بعض اسے مصری زبان کے ساتھ مقید نہیں کرتے؛ بلکہ اسے عام قراردیتے ہیں۔ ابن سیدہ فرماتے ہیں کہ ابن الاعرابی کاقول اس بارے میں صحیح ہے کہ یہ ورقہ کے معنی میں ہے۔(۲۴)خلاصہ یہ ہوا کہ بطاقة ایک فصیح عربی کلمہ ہے اوریہ کاغذ(کے ٹکڑے ) یاپرچی کے معنی میں مستعمل ہے، یہی بطاقات کااصلی معنی ہے، پھرزمانے کے گزرنے کے ساتھ اس میں ترقی ہوئی اوریہ دھات سے بنایاجانے لگا، اس پرکارڈ نمبراورحامل کارڈ کا نام کھدا ہوا ہوتا ہے، پھراس میں مزید ترقی ہوئی اوریہ پلاسٹک سے بنایاجانے لگا۔(۲۵)
کارڈکی فنی اوراصلاحی تعریف:
پلاسٹک کا بنا ہوا۵.۵ سینٹی میٹر سے ۵.۸سینٹی میٹرتک کا ایک مستطیل ٹکڑا جس پرحامل کانام،تاریخ اصداروانتہاء،کارڈجاری کنندہ کانام،اورحامل کارڈکی ظاہری علامت (اگر موجود ہوتو) جلی حروف میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔کارڈکی عالمی کمپنی اور بینک کی مخصوص علامت واضح طورپرپرنٹ ہوئی ہوتی ہے۔اس کی پشت پربعض اہم معلومات درج ہوتی ہیں، جیسے کارڈکی نوعیت،اس کاسیریل نمبر اور کارڈ ہولڈرکاشخصی نمبر،بینک اور کارڈ جاری کنندہ کی مہراورکارڈجاری کنندہ کارابطہ اورپتہ اورکارڈہولڈرکے دستخط وغیرہ۔(۲۶)

کریڈٹ (الائتمان)کی لغوی اوراصطلاحی تعریف

کریڈٹ انگریزی زبان کی اصطلاح ہے،کریڈٹ عصرحاضرکے معروف معنی میں پہلے استعمال نہیں ہوا؛البتہ اس کے شواہداوراستیناس بعض حضرات نے ذکرکیے ہیں،جوعنقریب آپ حضرات کے سامنے بیان کیے جائیں گے۔ کریڈٹ (Credit)کے معنی کے بارے میں اقتصادیات سے بحث کرنے والے معاصرعلماء میں اختلاف ہے،اس میں دوقول ہیں،ایک قول یہ ہے کہ کریڈٹ (الائتمان )قرض کے معنی میں ہے، جیساکہ ڈاکٹرعبدالوہاب ابوسلیمان کی رائے ہے،جب کہ ان کے علاوہ باقی حضرات اسے اعتمادکے معنی میں لیتے ہیں،ان میں سے ہر ایک کی تفصیل پیش خدمت ہے۔قول اول :کریڈٹ بمعنی الاِقراض:ڈاکٹرابوسلیمان عبدالوہاب صاحب کہتے ہیں کہ عام طورسے ماہرین اقتصادیات اوربینکارجضرات کریڈٹ کاترجمہ الائتمان (بمعنی اعتماد)کے کرتے ہیں ، اور وہ اسے کریڈٹ کاترجمہ قراردیتے ہیں،جب کہ انگلش ڈکشنریوں کی مراجعت سے اس کے بہت سارے معانی سامنے آتے ہیں ۔ عام طورسے اس کااطلاق آدمی کے مرتبے،اس کی عزت وتوقیراورنسبت پرہوتاہے،کسی کی برابری کااعتراف کرنا،اچھی شہرت،ابتداء واعتماداوربینک میں موجوداس کے اکاؤنٹ اوربیلنس کوبھی انگریزی میں کریڈٹ کہتے ہیں، اسی طرح ثمن کی ادائیگی میں معتمدہونے کی وجہ سے اس کی ادائیگی سے قبل اپنی ضروریات کے حصول پرقدرت پانا،کسی کے حصوں کا اعتراف کرنا،امتحان میں امتیازی مرتبے سے کامیاب ہونے کی وجہ سے ملنے والے بلندعلمی مرتبہ،اورتجارتی معاملات میں شہرت اور مرتبہ وغیرہ کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔(۲۷) یہی وہ معانی ہیں جن سے ائتمان کے معنی کی تخصیص ہوتی ہے جوکہ اس بحث کامحورہے۔ (Card)کے بھی بہت سارے معانی ہیں،ان میں سے سب سے مشہوراورمعروف یہ ہے کہ کارڈپلاسٹک کے بنے ہوئے اس ٹکڑے کوکہتے ہیں،جسے کوئی بنک جاری کرتاہے،یاکوئی اورادارہ ،کارڈہولڈرکے لیے،اس پرکارڈ ہولڈر سے متعلق بعض اموردرج ہوتے ہیں،اگرکریڈت کے قبیل سے ہوتواسے نقدرقم کے حصول یادین کے حصول کی غرض سے جاری کیاجاتاہے۔(۲۸)

قول ثانی:کریڈٹ بمعنی الثقہ(اعتماد)

عام ماہرین اقتصادیات کے نزدیک کریڈٹ اس اعتمادکوکہتے ہیں جس کے نتیجے میں کوئی شخص یامالیااتی ادارہ اسے مستقبل میں ادائیگی کی بنیاد پر ضروریات پوری کرنے کی قدرت دیتاہے۔(۲۹) الائتمان ”الأمان“ اور”الأمانة“ سے باب افتعال کامصدرہے،جب کہ الأمان،سچائی،اطمینان،عہد،طرف داری کوکہتے ہیں،اورمامون بہ (جس کے ذریعے دوسرے کوامن والابنیاجاتاہے)وہ اعتمادہے۔(۳۰)ماہرین اقتصادیات کے نزدیک ائتمان کی تعریف یہ ہے کہ ”موجودہ قیمت(یعنی اشیاء سامان وغیرہ)کاتبادلہ کرنااس کے برابرقیمت مؤجلہ کے وعدے کے مقابلے میں اورغالباًیہ قیمت نقدمیں ہوتی ہے۔(۳۱)جب کہ بینک کی اصطلاح میں ایسے عقدکوکہتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ کسی شخص کوایک معین مبلغ کا اعتماد جاری کرتاہے۔ (بطاقات الائتمان البنکیة في الفقہ الإسلامي:۴۴) اور مالیاتی شعبوں میں ائتمان اس قرض کوکہتے ہیں جوبینک کسی بھی شخص کوفراہم کرتاہے۔(۳۲)

کریڈٹ کارڈکی اصطلاحی تعریف

مجمع الفقہ الإسلامی جدہ نے اپنے ایک اجلاس جو۷-۱۲/۱۱/۱۴۱۲ھ میں ہوا، قرارداد نمبر(۵۶/۱/۷)کے ذریعے کریڈٹ کارڈزکی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی ہے:”یہ ایک سندہے،جوجاری کنندہ ایک عقدکی بناء پرکسی شخص حقیقی یامعنوی کوفراہم کرتاہے،اوروہ اس کواس سندکے ذریعے اشیاء کی خریداری اور سہولیات کے حصول پرقدرت دیتاہے،اس پرفوری ادائیگی واجب نہیں ہوتی؛ کیوں کہ جاری کنندہ اس کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرتاہے(اس شرط پرکہ وہ بعدمیں اسے اداکردے گا،بعض جاری کنندہ ایک معین مدت کے بعد غیر اداشدہ بلوں کی مقدارپرجرمانے کے نام سے سودی فوائدحاصل کرتے ہیں“۔ (۳۳) بعض حضرات نے (Debit Card)اور(Charge Card) کوبھی کریڈٹ کارڈزکی عمومی تعریف میں داخل کیاہے،جب کہ وہ اس کی تعریف میں اصالتا ًنہیں؛ بلکہ تغلیباً داخل ہوتے ہیں۔کریڈٹ کارڈ(Credit Card)کوعربی میں:”بطاقة الإقراض بزیادة ربویة والتسدیدعلی أقساط“(۳۴)،”بطاقة الائتمان الإقراضیة“(۳۵)،اور”بطاقة الائتمان“ بھی کہتے ہیں۔(۳۶)یعنی سودی بنیادوں پرقرض فراہم کرنے والااورقسط وارادائیگی کا کارڈ۔ کریڈٹ کارڈ کی اب تک پانچ اقسام وجود میں آئی ہیں:۱- عام کارڈ، یاسلورکارڈ، ۲-ممتازکارڈ،یاگولڈن کارڈ(۳۷)، ۳-پلاسٹک کارڈ(Premium Card)(۳۸)، ۴-گولڈ کارڈ، ۵-کوبرانڈیڈکارڈ (Co-branded Card)۔(۳۹)
خریداری کے وقت کریڈٹ کارڈکی دوحالتیں ہوتی ہیں:
۱-عربی میں اس حالت کو”بطاقة مغطاة“کہتے ہیں،مطلب یہ کہ اس سے مرادوہ کارڈہے جس کے اجراء کے وقت بینک صارف پرلازم کرتاہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں کارڈاستعمال کرنے کی صورت میں مہیاکی گئی قرض کی آخری مقدارکے برابررقم جمع کروا دے،اوروہ رقم جب تک کارڈ استعمال ہوتارہے گااس کی اکاؤنٹ میں باقی رہے گی، جیسے ڈیبٹ کارڈ(Debit Card)۔ ۲-دوسری حالت کوعربی میں”بطاقة غیرمغطاة “کہتے ہیں،یعنی مرادوہ کارڈہے جس کے اجراء کے لیے بینک صارف پررقم جمع کروانے کی کوئی شرط نہیں رکھتاکہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں کارڈکے ذریعے فراہم کی گئی قرض کی مقدارکے برابررقم رکھے۔(۴۰)جیسے چارج اورکریڈٹ کارڈ۔پہلی حالت(ڈیبٹ کارڈ،تکییف):وہ کارڈجن کے اجراء کے لیے بینک اکاؤنٹ میں رقم کا ہونا ضروری ہے،جیسے ڈیبٹ کارڈ(Debit Card)معاصرعلماء کی بڑی تعدادنے اس کی فقہی تکییف بطور”حوالہ“کے کی ہے،چناں چہ پروفیسرصدیق محمدامین الضریر،(۴۱)ڈاکٹرمحمد قری بن عبید،(۴۲) مولانارحمت اللہ ندوی،(۴۳) ڈاکٹروہبہ زحیلی،(۴۴)اورفقہ اکیڈمی انڈیا کے مفتی عبداللطیف پالنپوری، اورایک قول میں مولانا ابرارخان ندوی، مولاناخالدسیف اللہ رحمانی، مولانامحمداعظم ندوی، مولانازبیراحمدقاسمی، مولانا محمد ارشد فاروقی ، (۴۵) وغیرہ نے ڈیبٹ کارڈکی فقہی تکییف ”عقدحوالہ“سے کی ہے۔حضرت مولانامفتی محمدتقی عثمانی صاحب زیدمجدہ نے بھی اسے ”حوالہ“ کے ذیل میں ذکر فرمایا ہے ۔ (۴۶)مجمع الفقہ الإسلامی نے اپنے پندرہویں سمینار(جوکہ مسقط میں منعقد ہو ا تھا)میں یہ قراردادمنظورکی ہے کہ ڈیبٹ کارڈجاری کرنااس کے ذریعہ خرید و فروخت وغیرہ جائزہے،اس شرط پرکہ ادائیگی میں تاخیرکی وجہ سے جرمانہ(سودی فائدہ)نہ دینا پڑتا ہو۔(۴۷)ڈاکٹروہبة الزحیلی کہتے ہیں کہ ڈیبٹ کارڈجارڈ کرنے کے جوازکی دوشرطیں ہیں: ۱-صاحب ِکارڈاپنے بیلنس ،یاڈپازٹ سے رقم نکالے گا۔۲-اس کارڈکے ذریعہ معاملہ کرنے پرکوئی اضافی سودمرتب نہیں ہوگا۔ (۴۸)فقہ اکیڈمی انڈیاکے مولانامحمدشوکت ثناء قاسمی صاحب ڈیبٹ کارڈسے استفادہ کو جائزقراردیتے ہوئے لکھتے ہیں:”البتہ خریدوفروخت کی صورت میں اگر قیمت کی ادائیگی کسی طرح غرر،یابائع مشتری میں سے کسی کوضررہو،توپھراس کے ذریعہ خرید و فروخت قابل غورہوگی۔(۴۹)حاصل یہ ہواکہ معاصرعلماء کی اکثریت نے بطاقة مغطاة یعنی ڈیبٹ کارڈ کوعقدحوالہ قراردیاہے،کارڈہولڈرکومحیل،کارڈ جارڈ کنندہ جوکہ کارڈ ہولڈر کا مدیون بنتا ہے ، اسے محال علیہ اورتاجرکومحال سے تعبیرکیا،اس سے استفادہ کوجائز قرار د یا،البتہ یہ شرط رکھی گئی ہے کہ کارڈہولڈراپنے ہی بیلنس سے رقم نکالے،اوراس پرادائیگی میں تاخیرکی وجہ سے سودی فائدہ مرتب نہ ہوتاہو،اسی طرح قیمت ادائیگی میں غرر اور بائع ومشتری کسی کاضرربھی نہ ہو،وگرنہ ان خرابیوں کی وجہ سے ڈیبٹ کارڈسے استفادہ اوراس کااجراء ان علماء کے نزدیک ناجائزقرارپائے گا۔
دوسری حالت(کریڈٹ کارڈ،چارج کارڈ)
بطاقة غیرمغطاة یعنی کریڈٹ وچارج کارڈ کو خریدوفروخت کے لیے استعمال کرتے وقت، اس کی تکییف فقہی میں معاصرعلماء کااختلاف ہے، اس بارے میں متعدد آراء ہیں،ذیل میں ان کاخلاصہ ذکرکیاجائے گا۔پہلی رائے اس کی تکییف فقہی میں یہ ہے کہ یہ ” قرض“ ہے ،ڈاکٹر بکر بن عبداللہ ابوزید،(۵۰)ڈاکٹرعبدالوہاب ابوسلیمان،(۵۱) ڈاکٹرمحمدبالوالی،(۵۲) اورفقہ اکیڈمی انڈیاکے بہت سے ارکان نے اس کی تکییف ”قرض“سے کی ہے۔
پہلی تکییف”قرض“پرہونے والے اعتراضات
بطاقة غیرمغظاة یعنی کریڈٹ وچارج کارڈکی فقہی تکییف ”قرض“ پر فقہی اعتبارسے درج ذیل اعتراضات واردہوتے ہیں:۱-مقرض ومستقرض کے درمیان دوطرفہ تعلق ہوتاہے،یعنی اس میں عاقدین دوہوتے ہیں،قرض دینے والااورقرض لینے والا،جب کہ کارڈکی صورت میں عقدتین اطرف میں پایاجاتاہے،دائن یعنی تاجر،مدیون یعنی کارڈہولڈراورقرض اداکرنے والا بینک ، کارڈہولڈرکی طرف سے ادائیگی کرنے والاکارڈجاری کنندہ بینک دین کی ادائیگی میں حامل کارڈکانائب سمجھاجائے گا؛اس لیے کہ بینک کو یہاں پر متبرع مانناممکن نہیں،لہٰذابینک یا تو حامل کاکفیل ہوگا،یاوکیل،یامحال علیہ“۔(۵۳)
۲-بسااوقات کارڈہولڈرکارڈکواستعمال میں نہیں لاتا،جب کہ قرض میں یہ ضروری ہے کہ مال کی ادائیگی اوراس کابدل واپس کیاجائے جیسے کہ قرض کی تعریف فقہی میں مذکورہے:دفع مال إرفاقاًلمن ینتفع بہ ویردبدلہ لہ“․(۵۴)”کسی کومال دینابطوراحسان کہ وہ اس سے نفع اٹھائے اوراس کابدل اسے واپس لوٹائے۔“یاقرض ایک عقدمخصوص کوکہتے ہیں کہ دوسرے کومال مثل دیاجائے تاکہ وہ (بعدمیں)اس کامثل لوٹائے۔(۵۵)قرض میں قبضہ کاپایاجاناضروری ہے،اس لیے کہ عقدقرض میں تصرف قبضہ موقوف ہوتاہے،اورملکیت بھی اسی پرموقوف ہوتی ہے۔(۵۶) جب کہ ”بطاقة غیر مغطاة“ میں کسی نوع کابھی قبضہ نہیں پایاجاتاہے؛اس لیے کہ کارڈہولڈرکاکوئی بیلنس نہیں ہوتا ہے،اسی کے بارے میں ڈاکٹرعلی السالوس کہتے ہیں:”ولکن لوفرضناأن البطاقة ہذہ لیس لہارصید،فحامل البطاقة سوف یدفع فیمابعد، إذن فالدفع بالطاقة لایعتبرقبضاً“․(۵۷) یعنی:اگرہم یہ فرض کریں کہ اس کارڈکاکوئی بیلنس نہیں، کارڈ ہولڈ ر بعد میں ادائیگی کردے گا،توکارڈکے ذریعے ادائیگی کوقبضہ نہیں سمجھاجائے گا۔“
۳ -قرض کی تعریف اورحقیقت یہ ہے کہ وہ بطوراحسان کے ہوتا ہے،جب کہ بینک عمومی طورسے کوئی بھی چیزبغیراجازت کے نہیں دیتے،لہٰذاقرض سے زائدجوبھی اجرت وصول کی جائے گی وہ سودشمارکی جائے گی۔(۵۸)
۴-کارڈکی تکییف بطورقرض کے کرنا،یہ اس کے تمام حالات ومراحل کااحاطہ نہیں کرتا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹرمحمدعبدالحلیم لکھتے ہیں:”اس بات کی طرف اشارہ کرناضروری ہے کہ بینک کارڈہولڈرکی طرف سے معین رقم کی تاجر کو ادائیگی کے بعداس کاحق رکھتاہے کہ وہ حامل بطاقة سے اس مبلغ کامطالبہ کرے ؛ کیوں کہ اس ادائیگی کے نتیجے میں بینک کارڈہولڈرکادائن بنتاہے‘(اوردائن کوحق حاصل ہوتاہے کہ وہ مدیون سے اپنے دین کامطالبہ کرے)جب کہ کارڈکے اجراء اور تاجرسے معاہدے پردستخط کرتے وقت کسی طرح کے قرض لین دین کا وجود نہیں ہوتا“۔(۵۹)
۵-یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ مقرض یعنی قرض دینے والاکون ہے؟ قرض لینے والاتومعلوم اورمتعین ہے،اوروہ کارڈہولڈرہے،قرض کے احکام میں یہ بنیادی شرط ہے کہ قرض دینے والااہل تبرع میں سے ہو،وگرنہ قرض دیناشرعاًدرست نہ ہوگا؛ کیوں کہ اہل تبرع میں سے نہ ہونے کی وجہ سے اہلیت بھی نہ ہوگی،جب اہلیت نہیں ہوگی تو قرض کیسے دے گا،یہرحال قرض دینے والامجہول ہے، یہ معلوم نہیں کہ قرض دینے والے یہاں بورڈآف ڈائریکٹران ہیں،یاشخص قانونی یاکوئی اور؟؟؟۔بینک کسی حال میں بھی اس کی تعیین نہیں کرتے،عام طورسے تونفع لیتے وقت بورڈآف ڈائریکٹران اورشرکاء سامنے آتے ہیں،اورنقصان کے وقت ایک فرضی تصور ”شخصی قانونی“ کوشخص حقیقی باورکرواکے آگے کردیاجاتاہے،اگرچہ دستاویزات میں پہلے والے معاملے میں بھی شخص قانونی کاتذکرہ ہوتا ہے ، مگر در حقیقت نفع لینے والے توبینک کے مالکان ہی ہوتے ہیں، اگرشخص قانونی کو مقرض مان بھی لیاجائے تواس پرہونے پرتمام اعتراضات یہاں بھی وارد ہوں گے۔
دوسری رائے(وکالہ)
”بطاقة غیرمغطاة“کی تکییف کے سلسلے میں دوسری رائے وکالہ کی ہے،جن علماء نے اسے وکالت قراردیاہے ان میں ڈاکٹروہبہ مصطفی زحیلی صاحب ہیں،وہ کہتے ہیں:”یہ کارڈحوالہ کے قبیل سے ہے،آج بینکوں میں پائے جانے والے حوالے پراجرت لی جاتی ہے، توممکن ہے کہ اسے ہم اس قبیل سے مان لیں،یا اجرت پروکالت کے قبیل سے مانیں“۔(۶۰) ڈاکٹر عبدالستار ابوغدہ صاحب کے مطابق کارڈکایہ نظام وکالت اور کفالت دونوں کومتضمن ہے،جب کہ (مروجہ) اسلامی بنکوں کے حوالے سے یہ قرضہ حسنہ بھی ہے،ان کا کہنا ہے:کارڈکے استعمال میں اصل یہ ہے کہ اس میں توکیل اورکفالت پائی جاتی ہے،اوربعض دفعہ قرضہ حسنہ کی صورت ہوتی ہے ان بینکوں میں جوصارف کااکاؤنٹ (بیلنس)سے براہ راست ادائیگی کوشرط قرار نہیں دیتے؛ بلکہ کارڈجاری کنندہ اس کی طرف سے اداکرتاہے پھراپناحق وصول کرتاہے“۔(۶۱)دوسری تکییف (وکالہ )پرہونے والے اعتراضات”بطاقة غیرمغطاة“یعنی وہ کارڈجس کے اجراء کے لیے بینک کے پاس بیلنس رکھوانا مشروط وضروری نہ ہو،اس کی تکییف بطوروکالہ پرواردہونے والے اعتراضات درج ذیل ہیں:۱-وکالت میں عقدکاتعلق طرفین یعنی وکیل اورموٴکل کے درمیان ہوتا ہے ، جب کہ کارڈمیں یہ تعلق تین اطرف پرمشتمل ہوتاہے،کارڈہولڈر،کارڈجاری کنندہ اورتاجر۔
۲-عقدوکالہ میں وکیل کوموٴکل کی طرف سے دین کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جاسکتاہے،(۶۲) جب کہ کارڈکے معاملے میں وکیل یعنی کارڈجاری کرنے والاکارڈہولڈریعنی موٴکل کی طرف سے دین کی ادائیگی پرمجبورہوتاہے۔(۶۳)
۳-وکالت میں یہ ضروری ہے کہ محل وکالہ یعنی جس چیزکے بارے میں وکیل بنایا جارہا ہو، وہ عقدکے وقت موجودہو،جب کہ کارڈمیں محل وکالت یعنی دین عقدکے وقت موجود نہیں ہوتاہے۔(۶۴)
۴- موٴکلجن چیزوں میں خودتصرف کرسکتاہے،انہی میں وکیل بنا سکتا ہے،اگرموٴکل نے وکیل کومطلق اپناقائم مقام بنایا،تویہ اس بات کامقتضی ہے ، وکیل کوبھی اس چیزکااختیارہو،جس کاموٴکل اختیاررکھتاہے،کارڈوالے معاملے میں موٴکل یعنی کارڈ ہولڈر،تاجرکوخودادائیگی نہیں کرسکتاہے۔
۵-وکالت میں مال وکیل کے پاس امانت ہوتاہے،اگربغیرتعدی کے ہلاک وضائع ہوجائے تواس پرکوئی ضمان نہیں،جب کہ کارڈہولڈرکامال اوررقم کارڈجاری کنندہ کے پاس ہرحال میں مضمون ہوتے ہیں۔(۶۵)
۶-کارڈوالے معاملے پروکالت منطبق نہیں ہوتی،اورنہ ہی وکیل کے اوپرلازم ہے کہ وہ موٴکل کی طرف سے اپنے مال سے ادائیگی کرے،ورنہ یہ کفالت کی شکل اختیارکرلے گا۔(۶۶)
۷-کارڈجاری کنندہ تاجرکے حقوق کاضامن بھی ہوتاہے،ایک ہی شخص کوضامن اوروکیل بناناحنفیہ کے ہاں درست نہیں،اس سے وکالت باطل ہوجاتی ہے۔ (۶۷)یہاں یہ نہیں ہوسکتاکہ کفالت باطل ہوجائے ، اوروکالت باقی رہے؛اس لیے کہ کفالت وکالت سے اقوی ہوتی ہے تووہی ناسخ بنے گی۔(۶۸) لہٰذاوکالت باطل ہوجائے گی نہ کہ کفالت۔لہٰذامذکورہ اعتراضات کی وجہ سے ”عقدبطاقة“کی فقہی تکییف وکالہ سے کرنادرست نہیں؛کیوں کہ وکالت اپنے تمام ارکان وشروط کے ساتھ اس معاملے پرمنطبق نہیں ہوتی ہے۔
تیسری رائے(حوالہ)
”بطاقة غیرمغطاة“کی فقہی تکییف میں تیسری رائے یہ ہے کہ یہ حوالہ ہے،معاصرعلماء میں سے ڈاکٹررفیق مصری،(۶۹)شیخ عبداللہ بن منیع،(۷۰) اور ڈاکٹر وہبة الزحیلی(۷۱) وغیرہ نے اس کو اختیار کیاہے۔تیسری تکییف (حوالہ)پرہونے والے اعتراضات ”بطاقة غیرمغطاة“کی فقہی تکییف ”حوالہ“پردرج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں:۱-حوالہ کی تعریف یہ ہے :دین کومحیل سے محال علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل ومحول کرنا(۷۲)،اس کاتقاضہ یہ ہے کہ محال علیہ محیل کا مدیون ہو،جب کہ کا رڈ میں ایسا نہیں ہو تا، کیو ں کہ کارڈ کے اجراء کے وقت، یا تاجر سے معاہدے کے وقت کسی کا کسی پر کوئی دین نہیں ہو تا۔(۷۳)دین کے ثبوت پر وہ معاملہ وکالت یا کفالت قرار دیا جائے گا۔ (۷۴) شیخ ابراہیم الدبونے لکھا ہے کہ اس مسئلہ پر حوالہ کا مفہوم بھی منطبق نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ حوالہ تو محال علیہ کے ذمہ کسی دین سابق کا تقاضا کر تا ہے اور اس میں محیل کی رضا کا پا یا جانا ضروری ہے ،جب کہ یہاں ”بینک “ پر کو ئی دین سابق نہیں پا یا جاتا ہے کہ جس کی وجہ سے اس مسئلہ کو حوالہ کے قبیل سے سمجھا جائے ، اور ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں محیل کی رضا کا کو ئی تصور بھی نہیں پا یا جاتا ۔(۷۵)
۲۔حوالہ جب مکمل ہو جائے تو وہ محیل کا دین سے بری ہو جانے کا تقاضا کر تا ہے ،چناں چہ علامہ موصلی فر ماتے ہیں :یعنی جب حوالہ مکمل ہو جائے تو محیل ( دین) سے بری ہوجا تا ہے(۷۶)؛ جب کہ کارڈ والے معاملہ میں کارڈ ہولڈرصرف حوالہ کے مکمل ہو نے سے بری نہیں ہو تا ۔
۳۔اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہاں دین کی ادئیگی کا ذمہ کارڈ ہو لڈر سے کارڈ جاری کنندہ کی طرف منتقل ہو جا تا ہے ،تو پھر بھی اس سے بھی مکمل طور سے حوالہ متحقق نہیں ہو تا؛کیو ں کہ کو ئی بھی تاجر کارڈ ہو لڈر کو کو ئی شئے یا خدمت صرف اس لیے فرا ہم کر تا ہے کہ اسے پہلے سے معلوم ہو تا ہے کہ بینک نے کارڈ ہو لڈر کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری قبو ل کی ہے، تو گو یا یہ کفالہ کی طرح کوئی چیز لینا ہے (حقیقت میں حوالہ نہیں )۔(۷۷)
چو تھی رائے (وکالہ مع کفالہ)
بطا قة غیر مغطاة کی فقہی تکییف میں چو تھی رائے ” وکالہ مع الکفالہ “کی ہے ، یہ رائے ڈاکٹر مصطفی الزرقا صاحب(۷۸)ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ صاحب(۷۹) مفتی سید باقر ارشد صاحب بنگلور مو لانا محمد شوکت ثناء قاسمی صاحب (حیدر آباد ہند) کی ہے۔(۸۰) چوتھی تکییف پر ہونے والے اعتراضات وکالہ پر ہو نے والے اعتراضات پہلے بیان ہو چکے ہیں ،یہاں وکالہ اور کفالہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کر نے کی صورت میں جو اعتراضات وارد ہو تے ہیں ان کو بیان کر نا مقصود ہے ۔
۱۔جمع بین الوکالہ والکفالہ صحیح نہیں ،فقہاء نے اس کی وجہ بیان کی ہے؛چناں چہ کنز الدقائق کی شرح تبیین الحقائق میں علامہ زیلعی فر ماتے ہیں: اگر ایک شخص کا دوسرے پر دین ہو اور اس کی ایک آدمی نے کفالت کرلی توطالبِ دین نے کفیل کو وکیل بنایا اس دین پر قبضہ کر نے کا ،تو یہ تو کیل درست نہ ہو گی ، اس لیے کہ وکیل تو وہ ہو تا ہے کہ جو دوسرے کے لیے کام کر تا ہے جب کہ یہاں اگر اس وکالت کو درست قرار دیا جائے تو پھر وکیل اپنے لیے کام کر نے والابن جائے گا ،اس طور سے کہ جس دین کی اس نے کفالت کی تھی اب اسی پر قبضہ کر کے اپنا ذمہ بری کر نے کی کوشش کر نے والا ہوگا، لہٰذا اس سے رکنِ وکالت ختم ہو جائے گا تو کفیل کو وکیل بنانا بھی باطل ہو جائے گا۔(۸۱)
۲۔ وکالت اورکفالت کے مفہوم میں منا فات ہے ،کیو ں کہ وکیل تو امین ہو تا ہے ،جب کہ کفیل تو ضامن ہو تا ہے ۔(۸۲) ان اعتراضات سے واضح ہوا کہ وکالت اور کفالت دونوں ایک ساتھ کارڈ جاری کر نے کے عمل اور اس کے استعمال پر مکمل طور سے منطبق نہیں ہو تے ،لہٰذا یہ تکییف بھی درست نہیں۔(۸۳)
پانچویں رائے( کفالہ)
بطاقة غیر مغطاة کی فقہی تکییف میں پانچویں رائے ”کفالہ“ کی ہے، یہ رائے ڈاکٹر نزیہ حماد صاحب ،(۸۴) ڈاکٹر محمد عبد الحلیم صاحب ،(۸۵)ڈاکٹر عبد اللہ سعدی صاحب ،شیخ علی محی الدین القرة الداغی صاحب ،ڈاکٹر محمد القری صاحب ،(۸۶) مولانا خورشید احمد صاحب اعظمی صاحب ، مفتی محمد عبد الرحیم قاسمی اور مولانا خورشید انور اعظمی صاحب وغیرہ کا ہے۔(۸۷) چوتھی تکییف کفالہ پر ہو نے والے اعترضات: اس تکییف پر مختلف اعتراضات کیے گئے ہیں :۱-کفالت (ضمان) چو ں کہ شریعت اسلامی کی نگاہ میں ان اعمال ِ بر میں سے ہے جن کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ،لہٰذا اس پر کسی طرح کی اجرت لینا درست نہیں، اجرت چاہے کم ہو یا زیادہ ،کسی بھی نام و عنوان سے لی جائے درست نہیں ،چناں چہ علامہ صاوی نے ایک حدیث نقل کی ہے : ”ثلاثة لا تکون إلا للّٰہ الجعل، والضمان، والجاہ “․(۸۸) یعنی تین چیزیں صرف اللہ کے لیے ہو تی ہیں : انعام، ضمان اور مرتبہ۔علامہ ابو بکر بن منذر رحمة اللہ علیہ فر ماتے ہیں : ”أجمع من کل تحفظ عنہ من أھل العلم علی أن الحمالة بجعل یأخذہ الحمیل لاتحل ولا تجوز “․(۸۹) یعنی تمام اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ تاوان یا خون بہا کی ادائیگی پر ضامن کی طرف سے لی جانے والی کو ئی بھی اجرت جائز و حلال نہیں۔ کفالت (ضمان ) کے اس اصل شرعی کی روشنی میں کریڈٹ کارڈ کا معاملہ جو کفالت کو متضمن ہے اس میں ضامن (یعنی بینک )کے لیے کسی طرح کی اجرت لینا جائز نہیں ،چاہے کارڈ ہولڈر سے ہو یا تاجر سے یا ان دو نو ں کے علاوہ کسی تیسرے فر د سے ،بہر حال اجرت لینا جائز نہیں (جب کہ عقد بطاقة میں صورت حال یہ ہے کہ بینک کارڈ ہولڈر اور تاجر دونوں سے اجرت لیتا ہے ۔(۹۰)
۲۔ فقہائے شافعیہ کفالت کے جواز کے لیے دین مضمون کا عقد کے وقت یقینی طور سے پائے جانے کو شرط قرار دیتے ہیں؛کیوں کہ یہ ایک وثیقہ (قرض کا اقرار ) ہے تو شہادت (گواہی) کی طرح ثبوت حق سے متقدم نہیں ہو سکتی ۔(۹۱) چوں کہ عقد بطاقة میں بھی ثبوت دین سے قبل ہی عقد ہو جا تا ہے، اس لیے وہ درست نہیں ۔
۳۔ کفالہ کی تکییف پر ہو نے والے اعتراضات میں ایک بنیادی اعتراض یہ بھی ہے کہ کفالہ میں تو اصیل اور کفیل دو نو ں سے مطالبہ کر نا جائز ہے، جب کہ کریڈٹ کارڈ والے معاملے میں تاجر صرف کفیل یعنی بینک سے مطالبہ کر سکتا ہے ،کارڈ ہولڈر سے مطالبہ کر نے کا حق نہیں ،یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بینک ادائیگی کر تا ہے اور کبھی ادائیگی سے پیچھے نہیں ہٹتا اور نہ ہی انکار کرتا ہے، لیکن کفالت کی صورت میں شریعت نے تاجر کو اصیل سے مطالبہ کا جو حق دیا ہے اس کو ختم کر نے کا کسی کو اختیار نہیں ،چوں کہ بینک کے طے شدہ قواعد و ضوابط کے تحت تاجر کارڈ ہولڈر یعنی اصیل سے مطالبہ نہیں کر سکتا ،کیو نکہ وہ تو کارڈ دکھا کر اپنے ذمہ سے بری ہو گیا ہے ،تو اس صورتحال میں عقد بطاقة پر کفالہ کی تکییف صادق نہیں آتی ۔غرض اگر برأت اصیل کی شرط کو درست مان لیا جائے جیساکہ حنفیہ اور مالکیہ کے یہاں ہے تو پھر یہ عقد بطاقة کفالہ سے نکل کر حوالہ میں داخل ہو جائے گا اور اس پر وہ تمام اعتراضات وارد ہو ں گے جو حوالہ پر وارد ہو تے ہیں ۔
۴۔ ڈاکٹر ابو سلیمان عبد الوہاب صاحب عقد بطاقة کی تکییف کفالہ سے کر نے پر ”مناقشہ“ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں کہ عقد بطاقة کی تکییف میں کفالہ یا ضمان کا قول اس حد تک تو درست ہے کہ تاجر کا حق دین جو کارڈ ہو لڈر کے ذمہ ہو تا ہے ، اس کاذمہ قبول کر تا ہے اور کفالہ اور ضمان کی طرح اس کے بھی تین اطراف ہو تے ہیں؛لیکن یہ کہنا کہ کریڈٹ کارڈ کے نظام کے عقود کے سلسلے میں صرف کفالہ ہی تکییف پائی جاتی ہے تو یہ مسلّم نہیں؛کیو ں کہ اس صورت کا قائل ایک جہت سے کارڈ جاری کنندہ اور کارڈ ہولڈر کے در میان ہو نے والے عقد جب کہ دوسری جانب سے کارڈ ہولڈر اور تاجر کے درمیان پائے جانے والے عقد سے بھی غافل ہے ۔(۹۲)
۵۔فقہائے کرام کی عبارتوں سے یہ بات معلوم ہو تی ہے کہ کفیل کا انسان حقیقی ہو نے کے ساتھ ساتھ مکلف ،صاحب تبر ع اور غیر سفیہ ہو نابھی ضروری ہے ،جب کہ عقد بطاقة میں کفیل کا انسان حقیقی نہ ہو نا واضح ہے ؛کیوں کہ ماہرین معاشیات کے نزدیک بینک یا کارڈ جاری کر نے والے ادارے شخص قانونی ( لیگل پرسن ) کی حیثیت سے یہ سب امور انجام دیتے ہیں ،شخصِ قانونی کا غیر مکلف ہو نا بھی اظہر من الشمس ہے اور جب وہ حقیقی انسان اور مکلف نہیں تو صاحبِ تبرع کیسے بنے گا ،غرض شخص قانونی کی بنیاد پر انجام دئیے جانے والے معاملات شرعی نقطہ نگاہ سے کس حد تک کہ گنجائش رکھتے ہیں ،مذکورہ بالا امور کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے ،لہذا اگر عقد بطاقة میں کفالہ کی تکییف مان بھی لی جائے تو وہ اس اعتراض سے خالی نہیں ۔
۶۔مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ پانچویں تکییف کفالہ کے بارے میں ”المعاییر الشرعیة “ کی تشریح میں فر ماتے ہیں کہ کفالہ کی تحقق میں تھوڑا سا اشکال ہے مجھے ، وہ یہ ہے کہ کفالہ میں مکفول لہ متعین ہو نا چاہیے اور یہاں مکفول لہ متعین نہیں؛کیوں کہ جب کارڈ جاری کیا تو پتہ نہیں کہ یہ شخص کارڈ لے کر اس کو کہاں جا کر استعمال کرے گا ؟ کس بائع سے خریدے گا ؟ کس سے نہیں خریدے گا ؟یہ پتہ نہیں ،تو کفیل کے لیے ایسی کفالت عامہ ہے جس کا مکفول لہ متعین نہیں تو ایک خرابی تو یہ ہے کفالت ماننے میں ،دوسری خرابی یہ ہے کہ کفالہ کہتے ہیں ”ضم الذمة إلی ذمة “ کا مطلب یہ ہے کہ اس کفالت کی وجہ سے مدیونِ اصل بری نہیں ہو تا بلکہ دائن کو یہ حق حاصل ہو تا ہے چاہے اصیل سے مطالبہ کرے یا کفیل سے ،تو جو اصیل ہے وہ کفالت کے بعد بری نہیں ہو تا اور اب اس صورتحال (کریڈٹ کارڈ) کا جو معاملہ ہو تا ہے ، اس میں یہ بات طے شدہ ہے کہ جب خریدار نے کریڈٹ کارڈ دکھا کر دستخط کر دئیے تو وہ بری ہو گیا ، اب بائع اس سے مطالبہ کسی صورت میں نہیں کر سکتا ،تو اس واسطے کفالت کے تحقق میں یہ اشکال ہے کہ مکفول لہ غیر متعین ہو ،اصیل کا بری ہو جانا ان دو وجہوں سے اس کو کفالت نہیں کہہ سکتے ۔ (۹۳)
کریڈٹ کارڈ کے عدم جواز پر علماء کی آراء
اس بارے میں بھی اپنی طرف سے کوئی تحقیق پیش کرنے کے بجائے میں انھیں علماء حضرات کی آراء اور تحقیق کوپیش کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں جنہوں نے اس کے عدم جواز پر مفصل کلام کیا ہے۔ہمارے نزدیک ان علماء کی رائے زیادہ صائب ہے جو کریڈٹ کے عدم جواز کے قائل ہیں،دو وجوہات سے :۱-ایک تو صلب عقد میں سود کی شرط کے پیشِ نظر،۲- دوسرے تعامل کی وجہ سے کہ کارڈ لینے کے بعد اکثر لوگ سود میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے لکھا ہے کہ جس معاہدہ پرکارڈ ہولڈراور بینک دستخط کرتے ہیں وہ فاسد ہے کیوں کہ اس میں فاسد شرط پائی جاتی ہے،وہ یہ کہ وقت متعینہ پر رقم کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اضافی رقم دینی ہوگی اور جس نے فاسد معاہدہ طے کیا وہ صرف طے کرنے ہی سے گناہ گار ہو جاتا ہے،چاہے حامل کارڈ ”سود“ دے یا نہ دے؛اس لیے کہ جمہور کے نزدیک مالی لین دین میں فاسد شرط اس کو فاسد کر دیتی ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے حنابلہ کے مذہب کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان کے نزدیک شرط فاسد سے عقد فاسد نہیں ہوتا،عقد صحیح ہوتا اور شرط خود فاسد ہو جاتی ہے،جب کہ مروجہ اسلامی بینکوں کے سلسلہ میں بعض حضرات نے حنابلہ کے مسلک کو پیش نظر رکھ کر جواز کے قول کو اختیار کیا ہے اور مسلم شریف میں وارد:” من اشترط شرطاً لیس في کتاب اللّٰہ فہوباطل و إن کان مائة شرط“․ اور صحیحین میں وارد حضرت بریرہ رضی اللہ عنھاکے واقعہ سے استدلال بھی کیا ہے؛لیکن چوں کہ یہ سب معاملات سودی ہیں،یا کم از کم شبہ ربا موجود ہے ؛اس لیے جمہور ہی کا قول احوط اور اسلم ہے۔پھر ظاہر سی بات ہے کہ بینک کا مقصد صرف اور صرف نفع کمانا ہے،لوگوں کو خاص طور سے مسلمانوں کو سہولیات فراہم کرنا اس کا مقصد اوّلین نہیں؛چناں چہ نفع کمانے کے لیے بینک نے طرح طرح کے حیلے ایجاد کر رکھے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔آمین۔ڈاکٹر زحیلی صاحب کریڈٹ کارڈ کے شرعی حکم کے تحت رقم طراز ہیں کہ اس کارڈ کے ذریعہ لین دین حرام ہے؛اس لیے کہ یہ سودی قرضہ کے معاہدہ پر مشتمل ہوتا ہے، اس کا حامل اسے قسط وار سودی فائدے کے ساتھ ادا کرتا ہے۔(۹۴)
مولاناخالد سیف اللہ رحمانی صاحب کریڈٹ کارڈ وغیرہ میں جو مقررہ مدت کے بعد زائد سودی رقم وصول کی جاتی ہے اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ پندرہ روز کی مدت(بعض جگہ ایک مہینہ یا چالیس دن کی مدت)کے بعد ادائیگی کی صورت میں جو زائد رقم ادا کی جاتی ہے وہ سود ہے،سود خور کی نفسیات یہی رہی ہے کہ پہلے قرض دو تاکہ لوگ ہنسی خوشی نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اسے لے لیں اور جب وقت پر ادانہ کر سکے تو زائد ادائیگی کی شرط پر مہلت دے دو، زمانہ جاہلیت میں ربا کا یہی طریقہٴ کار مروج تھا جسے ربانسیئہ سے تعبیر کیا گیاہے۔مزید لکھتے ہیں کہ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ قرض پر لی جانے والی زائد رقم سود میں داخل ہے ،سود کا لینا بھی حرام ہے اور دینا بھی؛ اس لیے کریڈٹ کارڈ کا حاصل کرنا اصولی طور پر جائز نہیں ہے اور اس سے جو جائز سہولتیں متعلق ہیں وہ ڈیبٹ کارڈ سے حاصل ہو جاتی ہیں؛ اس لیے عام حالت میں اس کارڈ کے حصول کو ضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ،یہ خیال ہو سکتا ہے کہ اگر پندرہ دنوں کے اندر ہی رقم ادا کردی جائے جس پر کوئی سود نہیں لیا جاتاتو اس لحاظ سے اسے جائز ہونا چائیے؛لیکن یہ بات درست نظر نہیں آتی؛کیوں کسی معاملے کے جائزہونے اور نہ ہونے کا مدار صرف نتیجہ پر نہیں ہوتا؛ بلکہ معاملہ طے پانے کی کیفیت پر ہوتا ہے،یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈکا حامل اور بینک آپس میں معاہدہ کرتے ہیں کہ ایک خاص مدت کے بعد قرض واپس کرتے ہوئے سود بھی ادا کرنا ہوگا ،گویامعاملہ میں سود کا لین دین شروع سے شامل ہے؛ اس لیے یہ معاملہ اپنے آغاز ہی سے نا درست قرار پائے گا۔مولانارحمانی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ آج کل کاروبار کے دائرے کے وسیع ہو جانے کی وجہ سے بینک کے مختلف کارڈکا استعمال بڑھتا جارہا ہے ،مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں شرعی احکام و حدود کو ملحوظ رکھیں۔(۹۵)
مفتی اعظم تیونس شیخ محمد مختار سلامی صاحب کریڈٹ کارڈ کی حرمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس قسم کو اکثر معاصر فقہاء نے حرام قرار دیا ہے؛لیکن بعض فقہاء نے اس صورت کو حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ جب صاحب کارڈ یہ التزام کرے کہ وہ مطلوبہ رقم یکمشت اور وقت پر جمع کرے گا؛کیوں کہ وہ اس عزم سے شرط کو ساقط کردینے والاہوگا اور شرط ساقط ہونے پر معاملہ درست ہوتا ہے؛اس لیے جس بنیاد پر یہ صورت حرام قرار پاتی ہے وہ ہے تاخیر سے رقم کی ادائیگی میں سود کا عائد کیا جانا جو یہاں متحقق نہیں ہوتی؛لیکن میری رائے اس کے بر عکس ہے، میرے خیال میں چوں کہ اس صورت میں کارڈ ہولڈر کو عقد کے وقت ہی معلوم ہوتا ہے کہ تاخیر کی صورت میں اس کو اضافی سود ادا کرنا ہوگا؛کیوں کہ یہاں ثمن میں سودکی شرط ہے ؛اس لیے یہ حرام ہے،اسی طرح صاحب کارڈ کے التزام کا معاملہ غیر معلوم ہے؛ کیوں کہ مستقبل میں وہ اسے پورا کرپائے یا نہ کرپائے،یہ معلوم نہیں؛اس لیے کہ مطالبہ کے وقت فی الفور رقم کی ادائیگی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ اس کے پاس اتنی رقم مہیا ہو اور وہ حتمی صورت میں اتنی رقم کا مالک نہیں ہے؛ کیوں کہ رقم ابھی غیر موجود ہے۔(۹۶)
ان حضرات کے علاوہ پروفیسر عبد المجید سوسوہ ،پروفیسر الصدیق محمد الامین الضریر،فقہ اکیڈمی ہند اور اس کے اراکین میں سے دارالعلوم ندوة العلماء کے استاذ مولانا محمد اعظم ندوی، المعہدالإسلامی حیدر آباد ہندکے شعبہ علمی کے رفیق مفتی سید اسرار الحق سبیلی،جامعہ مظہر العلوم بنارس یوپی کے استاذ مولانا خورشید انور اعظمی،دارالعلوم ندوة العلماء کے استاذتفسیر و فقہ مولانا برہان الدین سنبھلی ،مولانا زبیر احمد قاسمی ،مرکزی دار القضاء امارت شرعیہ پھلواری پٹنہ کے قاضی مولانا عبد الجلیل قاسمی،مولانا عبد اللطیف پالنپوری(۹۷) اور پاکستان کے علماء میں مفتی عبدالواحد صاحب(لاہور) وغیرہ نے مذکورہ معاملہ کومقرر مدت پررقم ادا نہ کرنے کی صورت میں اضافہ کی شرط فاسد کی وجہ سے عقد کو فاسد ،جب کہ صلب عقد میں سود کے مشروط ہونے اور کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے والوں کی اکثریت کے سود میں مبتلاء ہونے کے تعامل کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
$ $ $
حواشی:
(۱) العثماني، المفتي محمدتقی حفظہ اللّٰہ، انعام الباری، کتاب الحوالات، کریڈٹ کارڈ: ۶/ ۴۹۱، ۴۹۲، مکتبة الحراء کراتشي․
(۲) مجلّة مجمع الفقہ الإسلامي، بطاقات الائتمان، نبذة تاریخیة للبطاقات المصرفیة: ۸/۱۰۶۳، ۱۰۶۴، جدہ․
(۳) بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام، فقہ اکیڈمی، انڈیا، سوالنامہ،ص: ۱۵، دارالاشاعت کراچی، ۲۰۰۸/۔
(۴) حوالاسابق،ص: ۸۳۔
(۵) الزحیلي، وہبة مصطفی، بطاقات الائتمان، تحت عنوان: ”تقدیم“، ص: ۱، بحث ومحاظرة ألقاہا لدورتہ الخامس عشرفي مسقط (سلطنة عمان)۲۰۰۴م․
(۶) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے :بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام، اسلامی فقہ اکیڈمی، انڈیا، ص: ۱۱۹، ۱۲۱، درالاشاعت کراچی ۲۰۰۸/۔
(۷) الوثائق، الوثیقة (رقم: ۱)بحث عن بطاقات الائتمان المصرفیة والتکییف الشرعي المعمول بہ، في بیت التمویل الکویتي، اعداد: مرکزتطویرالخدمة المصرفیة، بیت التمویل الکویتي، بحث منشورفي مجلة مجمع الفقہ الإسلامی بجدة: ۷/۳۴۳․

(۸) أبو زید،بکر بن عبد اللّٰہ،بحث عن بطاقة الائتمان،ص:۴،۵،الطبعة الثانیة:۷۱۴۱ھ،السعودیة․

(۹) بطاقات الائتمان للدکتورمحمدعلی القري بن عید، نبذة تاریخیة، بحث منشورفي مجلة المجمع الفقہ الإسلامي بجدہ: ۷/۲۹۳․

(۱۰) بطاقات الائتمان البنکیة في الفقہ الإسلامي، ص: ۸، جامعة النجاح الوطنیة، نابلس فلسطین، ۲۰۰۷م․

(۱۱) دیکھئیے: کریڈٹ کارڈکے شرعی احکام، مولانامحمداسامہ، ص: ۳۱، ۳۲، دارالاشاعت کراچی، کریڈٹ کارڈ، تاریخ، تعارف، شرعی حیثیت، ڈاکٹر شاہتاز: ۴ ۱، اسکالرز اکیڈمی، گلشن اقبال کراچی ۱۹۹۸/۔

(۱۲) القري، محمدعلي بن عید، بطاقات الائتمان: ۲، مجلة مجمع الفقہ الإسلامي: ۷/۴۹۳، ۲۹۴، جدہ․

(۱۳) بطاقات الائتمان البنکیة في الفقہ الإسلامي، ص:۸․

(۱۴) بطاقات الائتمان للدکتور علي القري، ص: ۲، مجلةمجمع الفقہ الإسلامي: ۷/۲۹۴․

(۱۵) بطاقات الائتمان لفتحی شوکت، ص: ۴․

(۱۶) بطاقات الائتمان للدکتورعلي القري، ص: ۳․

(۱۷) بطاقات الائتمان لفتحی شوکت، ص: ۸․

(۱۸) بحث عن بطاقات الائتمان المصرفیة والتکییف الشرعي المعمول بہ، في بیت التمویل الکویتي، اعداد: مرکزتطویرالخدمة المصرفیة، بیت التمویل الکویتي، بحث منشورفي مجلة مجمع الفقہ الإسلامی بجدة: ۷/۳۴۵․

(۱۹) بطاقات الائتمان للدکتورعلي القري، ص: ۳، مجلّة مجمع الفقہ الإسلامي: ۷/۲۹۴․

(۲۰)بطاقة الائتمانلبکر بن عبد اللہ،ص:۵، وبطاقات الائتمان المصرفیة والتکییف الشرعي المعمول بہ، في بیت التمویل الکویتي،ص:۵․

(۲۱) بطاقة الائتمان البنکیة فيالفقہ الإسلامي، ص: ۲۶․

(۲۲)البطاقات البنکیة للدکتورأبيسلیمان عبدالوہاب ،المصدرون للبطاقات عالمیاً، ص: ۳۴، دارالقلم دمشق۲۰۰۳ م، ۱۴۲۴ھ․

(۲۳)المرجع السابق،ص:۳۶․

(۲۴)الأفریقي،ابن منظور،لسان العرب،تحت مادةب ت ق :۱/۱۰۱،قدیمی کراتشي․

(۲۵)البطاقات الائتمانیة،تعریفہا وأخذالرسوم علی إصدارھاوالسحب النقدی بہا:۱،۲․

(۲۶)البطاقات الدائنیة للعصیمي:۹۵․

(۲۷)The Concise Oxford Dictionoey(Printed in U.S.A Cretid Card PO272 بحوالہ: البطاقات البنکیة للدکتور عبدالوہاب:۲۰․

(۲۸)المرجع السابق․

(۲۹) البطاقات الائتمانیة للدکتورصالح بن محمدالفوزان ،ص:۲․

(۳۰)محیط المحیط لبطرس البستاني،ص:۱۷،مکتبة لبنان بیروت․

(۳۱) النظریة الاقتصادیة ، أحمد جامع :۲ / ۲۴ ، دارالنہضة العربیة ،القاہرة․

(۳۲)موسوعة المصطلحات الاقتصادیة،ص:۳،مکتبة القاہرة الحدیثیة․

(۳۳)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي،ع ۱۲،ج:۳:۶۷۶․

(۳۴)البطاقات البنکیة:۶۶․

(۳۵)بطاقات الائتمان البنکیة:۲۲․

(۳۶)بطاقات الائتمان المصرفیة(بیت التمویل الکویتي)مجلة المجمع:۷/۳۴۷․

(۳۷)البطاقات الائتمان البنکیة ،للدکتورعبدالوہاب أبي سلیمان،ص:۶۷․

(۳۸)بطاقات الائتمان للزحیلي:۱۰․

(۳۹)بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام،ص :۵۰۔

کریڈٹ کارڈ – تعارف اور فقہی جائزہ
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/03-Credit%20Card%20Taaruf%20Aur%20Fiqhi_MDU_03_March_15.htm
حواشی:
(۴۰)بطاقات الائتمان البنکیة في الفقہ الإسلامي،ص:۸۱․
(۴۱) بطاقة الائتمان للضریر،ص:۱۱،مجلة مجمع الفقہ الإسلامي :۱۲/۱۴۳۱․
(۴۲)بطاقات الائمان للقري،مجلة المجع: ۷ / ۳۰۶ ، و بطاقات الائتمان البنکیة،ص:۸۰․
(۴۳)بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام،ص:۱۵۱،۱۵۳۔
(۴۴)بطاقات الائتمان للزحیلي ،ص: ۷ ، بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام،ص: ۱۵۱ ، ۱۵۳۔
(۴۵)بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام،ص:۲۵،۲۶۲، ۴ ۲ ، ۱۴۰،۸۶، ۱۸۰،۱۸۱،۲۵۱۔
(۴۶)انعام الباری ،کتاب الحوالات : ۶ / ۴۹۱ – ۴۹۵۔
(۴۷)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي،ع ۱۵:۳/۷۷․
(۴۸)بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈکے شرعی احکام،ص:۶۷۔
(۴۹)حوالہ سابق،ص:۲۵،۲۴۵۔اس بارے میں مزید اقوال اور دلائل راقم کی اس موضوع پرعنقریب طبع ہونے والی کتاب میں ملاحظہ فرمائیں۔
(۵۰)بطاقات الائتمان،ص:۵۹․
(۵۱) البطاقات البنکیة،ص:۱۳۶․
(۵۲)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي ، ع ۱۲، :۳/۵۶۷․
(۵۳)قلعة جي،المعاملات المالیة المعاصرة:۱۱۷․
(۵۴)شرح منتہی الإرادات:۲/۲۲۴․
(۵۵)الدرالمختارمع حاشیة ابن عابدین ، کتاب البیوع،فصل في القرض:۷/۴۰۶،دارالمعرفة․
(۵۶)الدکتورنزیہ حماد،عقدالقرض في الشریعة الإسلامیة،الفصل الثانی:۴۱-۴۵،دارالقلم،دمشق․
(۵۷)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي، ع:۷:۱/۶۵۱․
(۵۸)المرجع السابق:۱/۶۵۱․
(۵۹)الجوانب الشرعیة والمصرفیة،ص:۵۶․
(۶۰)مجلة مجمع الفقہ الإسلامی:۱/۶۶۸․
(۶۱) المرجع السابق:۱/۶۵۷․
(۶۲)حاشیة ابن عابدین ،کتاب الحوالة : ۱ ۱ / ۴۳۲ دارالفکر․
(۶۳)المعاملات المالیة المعاصرة:۱۱۶․
(۶۴)المرجع السابق․
(۶۵)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي ، ع ۷ ، ۱ / ۶۶۴․
(۶۶)بطاقات الائتمان البنیکة،ص:۹۰․
(۶۷)الزیلعي، فخرالدین عثمان بن علي، تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق، کتاب الوکالة: ۵/۲۹۷، دارالکتب العلمیة․
(۶۸)المرجع السابق،ص:۲۹۸،البطاقات البنکیة ،ص : ۱۹۹، ۲۰۰․
(۶۹) المصري،رفیق یونس،مجلة مجمع الفقہ الإسلامي، الدورة :۷، ع ۷، : ۱/۶۸۲ ، ۱۹۹۲م․
(۷۰)المرجع السابق : ۱ / ۶۶۸․
(۷۱) المرجع السابق،ع ۱۲،:۳/۶۵۸․
(۷۲)الاختیارلتعلیل المختار:۲/۳․
(۷۳)محمد عبد الحلیم : الجوانب الشرعیة والمصرفیة ،ص :۵۴․
(۷۴)الدسوقي:حاشیة الدسوقي علی الشرح الکبیر :۳/ ۳۲۵․
(۷۵)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي ،ع:۱۲،: ۳/ ۵․
(۷۶)الاختیار :۳/۵․
(۷۷)بطاقات الائتمان البنکیة في الفقہ الإسلامي ،ص:۹۱،۹۲․مزید تفصیل کے لیے راقم کی اس موضوع پرعنقریب طبع ہونے والی کتاب ملاحظہ فرمائیں۔
(۸۷)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي ،عدد۷:۱/ ۶۷۲․
(۷۹)المرجع السابق ،عدد۸ :۲/۶۴۴․
(۸۰)بینک سے جاری ہو نے والے مختلف کارڈ کے احکام ،ص: ۱۵۹ ،۱۶۰، ۲۴۵۔
(۸۱) تبیین الحقائق :۴/ ۲۸۱ دار المعرفة بیروت․
(۸۲)مجلة مجمع الفقہ الإسلامي ،عدد۸:۲/ ۶۶۴․
(۸۳)بطاقات الائمتان البنکیة في الفقہ الإسلامي ،ص: ۹۳․
(۸۴)حماد نزیہ، قضایا فقھیة معاصرة،ص:۱۴۶․
(۸۵)عمر، محمد عبد الحلیم : الجوانب الشرعیة ،ص: ۵۷․
(۸۶)مجلة ،مجمع الفقہ الإسلامي ،عدد ۱۲ ،۳/ ۶۶۰،۶۲۸․
(۸۷)بینک سے جاری ہو نے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام ،ص: ۱۹۳،۲۱۸، ۲۳۷۔
(۸۸) حاشیةالصاوي علی الشرح الصغیر علی أقرب المسالک مع الشرح الصغیر:۳/ ۴۴۲․
(۸۹)الاشراف علی مذاھب أھل العلم : ۱/ ۱۲۰ ،وزارة الاوقاف والشوٴن الإسلامیة ، قطر ،الطبعة الثانیة :۱۴۱۴ ھ ۔۱۹۹۴م․
(۹۰) البطاقات البنکیة ،ص؛ ۱۸۶․
(۹۱) تحفة المحتاج :۵/ ۲۴۶،مغني المحتاج :۲/ ۱۰․
(۹۲) البطاقات البنکیة ،ص: ۲۱۰․
(۹۳)المعاییر الشرعیة ،املائی افادات ۱۴۲۰ ھ ، ص:۱۱۷․
(۹۴) بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام،ص:۷۰،۷۲۔
(۹۵) حوالہ سابق،ص:۸۸،۸۹۔۷۷۷
(۹۶) حوالہ سابق،ص:۱۳۲۔
(۹۷) بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام،ص:۹۲، ۱۰۷،۱۰۸،۱۸۳،۱۸۵،۲۳۰،۲۳۷،۲۵۹،۲۶۲۔
………..
از: مفتی عارف محمود
استاذ ورفیق شعبہٴ تصنیف وتالیف، جامعہ فاروقیہ کراچی
…………..
http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/06-Credit%20Card%20Taruf%20aur%20Fiqhi%20Jayza_MDU_04_April_15.htm
darululoom-deoband.com
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ4، جلد: 99 ‏، جمادی الثانیہ 1436 ہجری مطابق اپریل 2015ء
.. ..
http://googleweblight.com/i?u=http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/06-Credit%2520Card%2520Taruf%2520aur%2520Fiqhi%2520Jayza_MDU_04_April_15.htm&grqid=28qe_oFa&hl=en-IN
……
کریڈٹ کارڈ کا شرعی استعمال
http://saagartimes.blogspot.in/2017/09/blog-post_36.html

حضرت خضر علیہ السلام اور آبِ حیات کی حقیقت؟

حضرت خضر علیہ السلام کی کنیت ابو العباس اور نام ”بلیا” اور ان کے والد کا نام ”ملکان” ہے۔ ”بلیا” سریانی زبان کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ ”احمد” ہے۔ ”خضر” ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر۔
”خضر” کے معنی سبز چیز کے ہیں۔ یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ”خضر” کہنے لگے۔
یہ بہت ہی عالی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ان کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے۔ بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۷،پ۱۵،الکہف:۶۵)
تو آپ بھی ہوسکے تو اس کنیت کو یاد رکھئے گا۔ ابوالعباس بلیا بن ملکان۔
یہ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے وزیر اور جنگلوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت ذوالقرنین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ (صاوی،ج۴،ص۱۲۱۴،پ۱۶، الکہف:۸۳)
تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا دور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہی ہے۔
کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔
اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے۔ لیکن جمہور علماء (یعنی کثیر علماء) کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسی علیہ السلام سے کئی سوبرس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہے۔
تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور اور حضر ت موسی علیہ السلام کے درمیان 400 سال کا فرق ہے۔تو اس لحاظ سے حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔ واللہ تعالی اعلم
امام بدر الدین عینی صاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے ۔اور زندہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی ۔کتاب العلم،باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۸۴،۸۵)
خدمت بحر(یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) ا ِنہیں سے متعلق(یعنی انہیں کے سپرد ) ہے اور
اِلیاس علیہ السلام ” بَرّ ”(خشکی) میں ہیں۔(الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ،حرف الخاء المعجمۃ،باب ماوردفی تعمیرہ،ج۲،ص۲۵۲)
اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ ۔اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔
اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۸،پ ۱۵، الکہف:۶۵)
اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی ۔ کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص39)
اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔واللہ تعالی اعلم
آب حیات کی حقیقت:۔
آب حیات کے متعلق بہت اختلاف ہے۔ بعض لوگ اس کو ایک افسانے کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ۔
ہاں کچھ علماء کرام نے اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں حضرت ذوالقرنین کے پہلے سفر کے ذمرے میں کیا ہے۔
جیسے کہ تفسیر خزائن العرفان پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸ میں نقل ہے۔حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ ء حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو آب ِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے وہ سب منزلیں طے کر کے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی۔ ا س کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ یہ قوم ”ناسک”کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اور جنگجو ہیں۔ تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے۔
اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ،اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔
بس آب حیات یا چشمہ حیات کی اتنی حقیقت ہی کتب میں لکھی ہے۔مگر اصل حقیقت تو بیشک اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
واللہ تعالی اعلم

حضرت خضر علیہ السلام کون تھے؟
یہ سوال مختلف فیہ رہاہے کہ سیدنا خضر کون اور کیا تھے؟ بعض علماء انھیں نبی تسلیم کرتے ہیں بعض ولی اور بعض ولی بھی نہیں سمجھتے بلکہ ایک فرشتہ سمجھتے ہیں جن کا شمار مدبرات امر میں ہوتا ہے اب ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ ان میں کون سی بات درست ہوسکتی ہے۔
ہمارے خیال میں سیدنا خضر نبی نہیں تھے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ بخاری کی طویل روایت کے مطابق سیدنا خضر ، سیدنا موسیٰ سے خود فرما رہے ہیں کہ ”موسیٰ ! دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہذا تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے اور یہ تو ظاہر ہے کہ سیدنا موسیٰ کو نبوت اور شریعت کا علم سکھایا گیا تھا جسے سیدنا خضر نہیں جانتے تھے لہذا وہ نبی نہ ہوئے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآنی آیات کی رو سے یہ ثابت شدہ امرہے کہ انبیاء کا علم ابتدا سے ایک ہی رہا ہے اور چونکہ سیدنا خضر کا علم اس علم سے متصادم تھا لہذا وہ نبی نہیں تھے۔
اب اگر انھیں ولی تسلیم کر لیا جائے تو یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں (بقول صوفیاء) کشف والہام سے غیب کے حالات سے مطلع کردیا ہو لیکن ولی کو یہ کب اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علم غیب سے اطلاع کی بنا پر کسی دوسرے کی مملوکہ چیز کو تباہ کر دے یا کسی انسان کو قتل بھی کر ڈالے۔ ولی بھی آخر انسان ہے جو احکام شریعت کا مکلف ہے اور اصول شریعت میں یہ گنجائش کہیں نہیں پائی جاتی کہ کسی انسان کے لیے محض اس بنا پر احکام شرعیہ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی جائز ہو کہ اسے بذریعہ الہام اس کی خلاف ورزی کا حکم ملا ہے یا بذریعہ علم غیب اس خلاف ورزی کی مصلحت بتائی گئی ہے۔ صوفیاء کے نزدیک بھی کسی ایسے الہام پر عمل کرنا خود صاحب الہام تک کے لیے بھی جائز نہیں ہے جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ لہذا سیدنا خضر نہ نبی تھے نہ ولی ۔ وہ انسان کی جنس سے بھی نہ تھے کیونکہ ایک ظالم اور فاسق انسان ہی ایسے کام کرسکتا ہے پھر وہ کون تھے؟
اب لامحالہ یہ ماننا ضروری ہے کہ آپ ان فرشتوں میں سے تھے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں ۔ اس نقطہ نظر پر دلیل حضرت حضر کا اپنا یہ قول کہ ( مافعلتہ عن امری) کہ یہ کام میں نے اپنی مرضی یا اختیار سے نہیں کیے بلکہ اللہ کے حکم سے کیے ہیں۔ گویا وہ خود اعتراف کررہے ہیں کہ وہ خود مختار نہیں اور یہ وہی بات ہے جسے اللہ نے فرشتوں کی صفات کے سلسلہ میں فرمایا کہ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہ کچھ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے” (٦٦:٦) اور وہ نافرمانی کر بھی نہیں سکتے۔
مرکزی خیال
اس قصے میں بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ دنیا بناکر اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہیں۔ اسباب کی ڈور ہی سے سہی مگر اسے کنٹرول وہی کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی اچھے شخص کے ساتھ کوئی برائی کا معاملہ کسی ناگہانی کی شکل میں پیش آئے تو اسے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی۔ اور اسی طرح اگر وہ کسی برے کے ساتھ اچھا ہوتا ہوا دیکھے تب بھی یہ اعتماد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ بھلائی اصل میں کسی نیک بندے کے لیے ہی ہے۔
تذکیری و اخلاقی پہلو
۱۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اللہ ہی جانتا ہے :۔ مندرجہ بالا تینوں واقعات سے دراصل مشیئت الٰہی کے کاموں میں پوشیدہ حکمتوں پر روشنی پڑتی ہے پہلا کام یہ تھا کہ کشتی والوں نے سیدنا موسیٰ و سیدنا خضر دونوں کو پردیسی سمجھ کر ان سے کرایہ نہیں لیا اور کشتی میں سوار کر لیا۔ جس کے صلہ میں سیدنا خضر نے ایسا کام کیا جو بظاہر غلط معلوم ہوتا تھا لیکن حقیقت میں سیدنا خضر نے ان سے بہت بڑی خیر خواہی کی اور ان کے احسان کا اس طرح بدلہ چکایا کہ انھیں بہت بڑے نقصان سے بچا لیا اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی نقصان پر بے صبر نہ ہونا چاہیے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نقصان میں بھی اللہ نے اس کے لیے کون سے اور کتنے بڑے فائدے کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ دوسرا واقعہ صدمہ کے لحاظ سے پہلے واقعہ سے شدید تر ہے لیکن اس میں جو اللہ کی مصلحت پوشیدہ تھی وہ بھی منفعت کے لحاظ سے پہلے واقعہ کی نسبت بہت زیادہ تھی اور دونوں واقعات سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مصائب پر ایک مسلمان کو صبر کرنا چاہیے اور اللہ کی مشیئت پر راضی رہنا چاہیے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جتنی مصیبت پر صبر کیا تھا اسی کے مطابق اللہ اس کا اجر اور نعم البدل عطا فرماتا ہے۔ تیسرے واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک آدمی کی رفاقت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کا اچھا بدلہ اس کی اولاد کو دیا کرتا ہے۔ مرنے والا چونکہ نیک انسان تھا لہذا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس کا مدفون خزانہ یا ورثہ دوسرے لوگ نہ اڑا لے جائیں، بلکہ اس کی اولاد کے ہی حصہ میں آئے۔
۲۔مثبت سوچ
آج کے اس دور میں جب ہر شخص اسباب کو اپنا خدا اور دنیا کو اپنا مقصد حیات بنا بیٹھا ہے، ایسے بندۂ مومن کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ظاہری حالات سے مایوس اور دلبرداشتہ ہوجائے۔ مومن کا توکل ہمیشہ اللہ پر ہی رہتا ہے۔ وہ اسباب سے اوپر اٹھ کر مسبب الاسباب میں جیتا ہے۔ چنانچہ وہ ہر چیز کے پیچھے خیر ہی دیکھتا ہے چاہے بظاہر اسے اس میں کوئی چیز بری نظر آرہی ہو۔ چنانچہ خدا پر توکل، بھروسہ، اس سے حسن ظن اور ہر حال میں خدا کی بندگی و عبادت بندۂ مومن کاہمہ وقتی کام ہونا چاہیے۔ کیونکہ خدا غیب میں رہتے ہوئے بھی اپنے بندوں کا ساتھ دیتا ہے۔ چاہے بظاہر معاملات کتنے ہی برے ہوں، خدا صالحین کو کبھی نہیں چھوڑتا ۔
۳۔ اللہ کی نصرت
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ پہلے واقعہ میں ہم نے دیکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ صالحین کی مدد کرنے کے لیے اسباب کے خلاف بھی معاملات کرتے ہیں۔ مگر چونکہ یہ دنیا عالم آزمائش ہے اس لیے ایسا بہت کم ہی کیا جاتا ہے۔ اس واقعے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ زیادہ تر بندوں کی مدد اسباب میں رہتے ہوئے ہی کرتے ہیں، گو بظاہر یہ اسباب عارضی طور پر ان کے خلاف ہوں، لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے معاملات کا فیصلہ آخرکار نیک بندوں کے حق میں ہوتا ہے ۔
۴۔ دنیا کے حادثات کی ظاہری شکل اور حقیقت الگ ہے:۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سیدنا خضر کی ہمراہی کے دوران جو واقعات پیش آئے۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کو اپنے کارخانہ مشیئت کا پردہ اٹھا کر ذرا اس کی ایک جھلک دکھائی تھی تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ اس دنیا میں جو کچھ شب و روز ہو رہا ہے وہ کیسے اور کن مصلحتوں کے تحت ہو رہا ہے اور کس طرح واقعات کی ظاہری شکل و صورت اصل حقیقت سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ایک عام انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ ظالموں اور نافرمانوں پر اللہ کے انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں پر سختیاں اور شدائد کا ہجوم ہے ظالم مسلسل ظلم کرتے جارہے ہیں اور ان کی سزا بے گناہوں کو ملتی ہے تو ایسے واقعات سے اکثر انسان یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے اگر اللہ موجود ہوتا اور وہ عادل و منصف ہے تو ایسے جگر خراش واقعات دنیا میں کیوں وقوع پذیر ہوتے؟ ان واقعات میں ایسے ہی حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ رہا اللہ کے عدل و انصاف کا معاملہ تو اگرچہ اس کا ظہور اس دنیا میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے تاہم عدل و انصاف کا صحیح اور مقررہ وقت روز آخرت ہے اور روز آخرت کا قیام اسی لیے ضروری ہے۔
از پروفیسر محد عقیل:
نوٹ : اس تحریر کی تفسیر و ترجمہ مولانا عبدلارحمٰن کیلانی کی تیسیرالقرآن سے کاپی کیا گیا ہے جبہ اخلاقی و تذکیری پہلو کے بعض اجزا انہی کی تفسیر سے لئے گئے ہیں اور بعض اجزا ریحان احمد یوسفی نے تحریر کئے ہیں۔
(قصہ موسیٰ و خضر(علیہماالسلام
…..
خضر علیہ السلام
خضر ایک بزرگ شخصیت کا لقب ہے۔ ان کا اصل نام ابو العباس بلیا بن ملکان (انگریزی: Abu Al-Abbas Balya Bin Malkan) ہے۔ جبکہ محمد حسین طباطبائی کے مطابق ان کا اصلى نام تالیا بن ملکان بن عبر بن ارفکشد بن سام بن نوح ہے۔[1] بفتح خ، بکسر ض اور بکسر خ وہ بسکون ض، دونوں صحیح۔ قرآن کی سورۃ کہف میں خدا کے ایک بندے کا ذکر ہے اور مفسرین کی اکثریت کے نزدیک اس سے مراد خضر ہیں۔ قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے خادم ’’جسے مفسرین نے یوشع لکھا ہے‘‘ کے ساتھ مجمع البحرین جارہے تھے کہ راستے میں آپ کی ملاقات خدا کے بندے سے ہوئی۔ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ آپ اپنے علم میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں تو میں چند روز آپ کے ساتھ رہوں۔ بندے نے کہا کہ آپ جو واقعات دیکھیں گے ان پر صبر نہ کر سکیں گے۔ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کرنا۔ اس قول و قرار کے بعد دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں خدا کے بندے نے چند عجیب و غریب باتیں کیں۔ کشتی میں سوراخ ، ایک لڑکے کا قتل اور بغیر معاوضہ ایک گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا، حضرت موسیٰ سے صبر نہ ہو سکا اور آپ ان باتوں کا سبب پوچھ بیٹھے۔ خدا کے بندے نے سبب تو بتا دیا ۔ لیکن حضرت موسیٰ کا ساتھ چھوڑ دیا۔
ایک دوسرا قصہ جو خضر سے منسوب ہے، ان کا سکندر اعظم کے ساتھ سفر کرنا ہے۔ جس میں یہ دونوں آب حیات کی تلاش میں روانہ ہوتے ہیں۔ سکندر ایک گھاٹی میں راہ بھول کر رہ جاتا ہے۔ اور خضر چشمہ آب حیات پی لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ عام اعتقادات کے مطابق حضرت خضر کا کام سمندر اور دریاؤں میں لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ عوام آپ کو خواجہ خضر کہتے ہیں۔ بعض علما آپ کو پیغمبر نہیں مانتے کیونکہ اس امر کا پتا نہیں چلتا کہ آپ نے کسی قوم کی ہدایت کی ہو۔
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AE%D8%B6%D8%B1_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85
……………..
حضرت موسیٰ (علیہ السلام ) اور حضرت خضر (علیہ السلام ) کا دلچسپ واقعہ سُنیے ؛ حضرت مولانا طارق جمیل ص

چھوٹے بچوں کی تربیت وپرورش اور ان کے بالغ ہونے کا بیان

راوی:
اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی علامت اور حد کیا ہے اور یہ کہ بچے کی تربیت وپرورش کرنے کا حق کس پر ہے؟
بلوغ کی علامت:
لڑکے کے بالغ ہونے کی علامت یہ کہ اس کو احتلام ہونے لگے اور اس میں عورت کو حاملہ کر دینے کی صلاحیت پیدا ہو جائے اور انزال ہو سکتا ہو ۔ اسی طرح لڑکی کے بالغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کو ماہوری آ جائے اور احتلام ہو جائے اور اس کے حمل ہو سکتا ہو اگر یہ علامتیں نہ پائی جائیں تو پھر جب لڑکے اور لڑکی دونوں کی عمر پندرہ سال کی ہو جائے تو وہ بالغ کے حکم میں داخل ہو جائیں گے فتوی اسی قول پر ہے لڑکے کے بالغ ہونے کی کم سے کم مدت بارہ برس کی عمر ہے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی کم سے کم مدت نو برس ہے۔
اگر لڑکا لڑکی بالغ ہونے کے قریب ہوں اور وہ یہ کہیں کہ ہم بالغ ہو گئے ہیں تو ان دونوں کی اس بات کو صحیح سمجھا جائے گا اور وہ دونوں حکم میں بالغ کی مانند ہوں گے۔
بچہ کی پرورش کا حق کس کو ہے؟
چھوٹے بچے کی پرورش کا حق سب سے زیادہ ماں کو ہے خواہ وہ شادی قائم ہونے کی حالت میں ہو یا اس کو طلاق دیدی گئی ہو ہاں اگر ماں مرتد یا بدکار ہے جس سے امن نہ ہو تو پھر اس کو حق سب سے زیادہ نہیں ہوگا اگر ماں طلاق کے بعد بچہ کی پرورش کرنے سے انکار کر دے تو صحیح یہ ہے کہ اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ عاجز ہو لیکن اگر اس بچہ کا کوئی ذی رحم اس کی ماں کے علاوہ نہ ہو تو بچہ کو ضائع ہونے بچانے کے لئے ماں کو پرورش کرنے کے لئے مجبور کیا جائے گا اگر ماں نے بچہ کے باپ کی وفات یا طلاق کے بعد اس بچہ کے غیر محرم سے شادی کر لی تو پھر اس بچہ کی پرورش کا سب سے زیادہ حق اس کو نہیں ہوگا اور اس نے کسی محرم سے شادی کر لی ہے مثلا بچہ کے چچا سے نکاح کر لیا ہے تو اس صورت میں اس کا یہ حق ساقط نہیں ہوگا اسی طرح ماں نے پہلے کسی غیر محرم سے نکاح کر لیا اور اس کی وجہ سے اس کا حق ساقط ہو گیا مگر پھر ماں نے اس غیر محرم کی وفات یا طلاق کے بعد کسی محرم سے جیسے بچہ کے چچا سے شادی کر لی تو اب اس کو پرورش کا سب سے زیادہ حق مل جائے گا۔
اگر بچہ کی ماں پرورش کا حق نہ رکھتی ہو بایں سبب کہ اس نے غیرمحرم سے شادی کر لی ہے یا مرتد ہوگئی اور یا وہ مر گی ہو تو پھر اس بچہ کی پرورش کا حق سب سے زیادہ نانی کو ہوگا۔ اگر نانی موجود نہ ہو تو اس سے اوپر کے درجہ والی مثلا پڑنانی وغیرہ کو ہوگا نانی و پر نانی وغیرہ کے بعد پرورش کرنے کی سب سے زیادہ مستحق دادی و پردادی وغیرہ ہوگی اگر دادی اور پردادی وغیرہ موجود نہ ہو تو پرورش کا سب سے زیادہ حق بچہ کی حقیقی بہن اس کے بعد اخیافی بہن اور اس کے بعد سوتیلی بہن کو ہوگا اور اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو یا پرورش کرنے کی اہلیت نہ رکھتی ہو تو پھر اسی ترتیب کے مطابق پرورش کرنے کا حق سب سے زیادہ بچہ کی خالہ کو اس کے بعد بچہ کی پھوپھی کو ہوگا اور بھانجیاں بھتیجیوں اور بھتیجیاں پھوپھیوں سے اولی ہوں گی۔
استحقاق پرورش کے سلسلہ میں جن عزیزوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا آزاد ہونا شرط ہے لہذا باندی اور ام ولد کو پرورش کا کوئی حق نہیں ہے لیکن ذمیہ مسلمہ کے حکم میں ہے کہ ذمیہ کو پرورش کا حق حاصل ہے بشرطیکہ بچہ دین کی سمجھ بوجھ کی عمر کو نہ پہنچ گیا ہو اگر ایسی کوئی بھی عورت موجود نہ ہو جس کو پرورش کا حق پہنچتا ہے تو پھر اس بچہ کی پرورش کا حق عصبات کو ہوگا اور ان کی ترتیب وہی ہوگی جو میراث پانے میں ہوتی ہے لیکن لڑکی کسی ایسے عصبہ کی پرورش میں نہ دی جائے جو غیرمحرم ہو جیسا چچا کا لڑکا یا وہ فاسق و لاپروا ہو۔
حق پرورش کی مدت:
حق پرورش کی مدت نو سال یا سات سال کی عمر مقرر کی گئی ہے اور قدوری نے لکھا ہے کہ جب بچہ تنہا کھانے پینے لگے کپڑا پہننے لگے اور خود استنجا کرنے لگے تو حق پرورش ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد اس بچہ کو اس کا باپ زبردستی اپنی تحویل میں اور نگہداشت میں لے سکتا ہے اور لڑکی کی صورت میں ماں اور نانی اس وقت تک مستحق رہیں گی جب تک کہ اس کی لڑکی کو حیض نہ آجائے اور حضرت امام محمد کے نزدیک لڑکی کے قابل شہوت ہونے تک ماں اور نانی کو پرورش کا استحقاق رہتا ہے جیسا کہ ماں اور نانی اور دادی کے علاوہ دوسری عورتوں کے استحقاق کے بارے میں یہ شرط ہے کہ جب لڑکی مرد کے قابل ہوجائے تو وہ ان کی پرورش سے نکل جائے گی.
مشکوۃ شریف۔
جلد سوم۔ نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان۔
حدیث 563

حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے میری واقفیت اور تاثرات

سید حسین احمد مدنی
پیدائش 1879ء
وفات 1957ء
دور جدید دور
شعبۂ زندگی اسلامی عالم
مذہب اسلام
مکتب فکر چشتی صابری شاخ سلسلہ چشتیہ
شعبۂ عمل حدیث، تصوف، فقہ
ناظرین نے ایثار وفیاضی کے بہت سے نمونے دیکھے ہوں گے، خود اس عاجز نے بھی دیکھے ہیں، لیکن حضرت مولانا کی ذات میں اس کا جو نمونہ دیکھا اس کی مثالیں تو پچھلی تاریخ کی کتابوں میں بھی بہت کم ہی مل سکیں گی۔
مولانا کا دولت خانہ ایک ایسا وسیع مسافر خانہ یا مہمان خانہ تھا کہ جن لوگوں کو خود کبھی مولانا کا مہمان بننے کا اتفاق نہیں ہوا وہ کسی دوسرے سے اس کا حال سن کر صحیح اندازہ نہیں کرسکتے بیسیوں دفعہ کے اپنے مشاہدے اور تجربہ کی بنا پر میرا محتاط اندازہ ہے کہ برسہا برس سے مولانا کے یہاں مہمانوں کا اوسط چالیس پچاس روزانہ سے کم نہ رہتا تھا، ان میں ایک خاصی تعداد تو ان اہل طلب کی ہوتی تھی جو حضرت سے بیعت ہونے کے لیے دور وقریب کے مختلف مقامات سے روزانہ آتے تھے، ان کے علاوہ ایک تعداد ان لوگوں کی ہوتی تھی جو صرف زیارت وملاقات کے لیے یا کسی معاملہ میں دعا کی درخواست کے لیے یا اپنی کسی ضرورت میں حضرت مولانا کی سفارش حاصل کرنے کے لیے یا ایسے ہی کسی اور کام سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے او رایک دو دن رہ کر واپس چلے جاتے تھے، ان کے علاوہ کچھ حضرات وہ بھی ہوتے تھے جوذکر وشغل اور روحانی تربیت کے لیے کئی مہینے حضرت کی خدمت میں مقیم رہتے تھے اور میرا خیال ہے کہ مہمانوں کی ان قسموں کے علاوہ کچھ لوگ حضرت مولانا کی اس فیاضی اور مہماں نوازی سے بے جا فائدہ اٹھانے والے بھی ہوتے تھے ، میں نے واقفین سے سنا ہے کہ قرب وجوار کے دیہات کے بعض لوگ جو بازار، تھانے یا تحصیل کے اپنے کاموں سے دیوبند آتے تھے وہ بھی کھانے کے وقت حضرت کے مہمان بن جاتے تھے اور حضرت ان کی اس نوعیت سے واقف ہونے کے باوجود ان کی مہمان نوازی کرتے تھے، بلکہ خادموں تک کو سخت تاکید تھی کہ اگر کسی کے متعلق ایسا اندازہ ہو تب بھی مہمانوں ہی کی طرح اس کا اکرام کیا جائے مجھے حضرت کے ایک خادم نے خود بتایا کہ ایک دفعہ انہوں نے ایسے ایک صاحب سے کچھ کہہ دیا تو حضرت ان پر سخت غصہ ہوئے اور یہاں تک فرمایا کہ میرے یہاں آنے والے کسی بھی مہمان کا جو شخص دل دکھائے گا میں اس کو معاف نہیں کروں گا۔
بہرحال مختلف انواع واقسام کے ان مہمانوں کی تعداد کا اوسط جیسا کہ اس ناچیز نے عرض کیا چالیس پچاس روزانہ سے کم نہ تھا، اگر کبھی صرف تیس پینتیس ہوتے تو اسی طرح کبھی ساٹھ ستر تک بھی ہو جاتے تھے۔
اگر کسی مخصوص مہمان کے اکرام میں کوئی خاص اہتمام اور تکلف کیا جاتا، مثلاً پلاؤ پکتا یا ثرید تیار کیا جاتا، یا دیوبند کی مشہور فیرینی آتی تو بلا امتیاز سارے مہمان اس دن وہی کھانا کھاتے اور میرا خیال ہے کہ ہفتے میں ایک دو دفعہ ایسا ضرور ہوتا تھا۔
یہاں اس چیز کا ذکر کر دینا بھی دل چسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ حضرت کے یہاں کا روز مرہ کا سادہ کھانا بھی (یعنی روٹی اور آلو یا لوکی جیسی کسی ترکاری کے ساتھ بڑے گوشت کا شوربہ والا سالن) اس قدر لذیذ اور ذائقہ دار ہوتا تھا کہ میں خود بھی شہادت دے سکتا ہوں او ربہت سے مہمانوں سے بھی میں نے سُنا ہے کہ حضرت کے دسترخوان پر بیٹھ کر سوایا یا ڈیوڑھا کھانا کھایا جاتا ہے او رکبھی نقصان نہیں دیتا جو لوگ حضرت کے حالات سے کچھ باخبر ہیں اور جنہوں نے حضرت کی عجیب وغریب اور بے مثال مہمان نوازی کا تجربہ کیا ہے ان کو اس میں شک نہیں ہو سکتا روزمرہ کی اس مہمان نوازی اور اسی طرح کی بعض دوسری للّٰہی مدوں میں حضرت کے ہاتھوں سے جو کچھ دوسروں پر خرچ ہوتا تھا، خود اپنی ذات پر اور اہل وعیال پر اس کا چوتھائی بھی خرچ نہیں ہوتا ہو گا۔
کسی بندے کے ظاہری احوال واعمال سے اس کے اندرونی حال کے بارے میں جہاں تک رائے قائم کرنے کا حق ہے اس کی بنا پر پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ الله تعالیٰ نے شح اور حبّ مال سے حضرت کے قلب وروح کو ایسا صاف کر دیا تھا کہ شاید اس کے غبار کا کوئی ذرّہ بھی وہاں نہیں رہا تھا اوران شاء الله حضرت مولانا اس قرآنی بشارت کے خاص مستحقین میں ہوں گے:
﴿وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾(تغابن) ترجمہ:” اور الله نے اپنے جن بندوں کوشح اور حب مال کی بری خصلت سے بچایا وہ یقینا فلاح پانے والے ہیں۔“
ایک واقعہ اس جگہ اور بھی سن لیجیے، جس سے حضرت مولانا کی اس خصوصیت ( یعنی ایثار وفیاضی اور دوسروں کی راحت رسانی کا فکر واہتمام) کے علاوہ ایسی ہی بعض اور خصوصیات بھی آپ کو معلوم ہو ں گی۔
غالباً23ھ یا24 کی بات ہے، سوامی شردھانند کی اٹھائی ہوئی شدھی سنگھٹن کی تحریک کے مقابلے میں ”جمعیة العلماء ہند“ کا شعبہٴ تبلیغ میدان میں اُترا ہوا تھا۔ اس وقت اس کے سامنے تبلیغی وفود کے ذریعہ وقتی دفاعی کوششوں کے علاوہ اُن علاقوں میں، جو شدھی تحریک کا خاص میدان بنے ہوئے تھے، مذہبی مکاتب قائم کرنے کا ایک ٹھوس، مستقل اور وسیع کام بھی تھا، جس کے لیے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت تھی جمعیة العلما ہند اوراکابر دیوبند سے تعلق رکھنے والے رنگون کے صاحبِ خیر تاجروں نے اس سلسلہ میں مالی امداد کا ایک منصوبہ تیار کیا او رجمعیة العلما ہند سے اپنا ایک وفد برما بھیجنے کی درخواست کی، اس وقت برما ہندوستان کا ایک صوبہ تھا یہ وفد رنگون پہنچا، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة الله علیہ اور مولانا احمد سعید صاحب ( جو اس وقت جمعیة کے ناظم تھے، اس وفد کے ارکان تھے مولانا سید مرتضی حسن صاحب مرحوم بھی اس وفد کے ساتھ تھے، لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے وہ اہل رنگون ہی کی دعوت پر دارالعلوم دیوبند کے شعبہٴ تبلیغ کی طرف سے تشریف لے گئے تھے۔ (شدھی سنگھٹن کے مقابلہ میں دارالعلوم دیوبند کے شعبہٴ تبلیغ کی طرف سے بھی مستقل کام ہو رہا تھا)
بہرحال یہ تینوں حضرات رنگون پہنچےصوبہ برما کے اس وقت کے انگریزی گورنر نے یا اس کی ہدایت پر اس کے ماتحت کسی انگریز حاکم نے یہ حماقت کی کہ رنگون کے جن سورتی تاجروں نے ان حضرات کو دعوت دے کر بلایا تھا اور جو اس سلسلہ میں پیش پیش تھے، ان کو بلا کر اس نے کہا کہ آپ کے یہاں جو یہ تین عالم لوگ آئے ہیں ،ان میں ایک آدمی مولانا حسین احمد بہت خطرناک ہیں او رگورنمنٹ کے دشمن ہیں، اس لیے ان کو ہم یہاں تقریر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان لوگوں نے کہا کہ اس وقت یہ وفد ایک بالکل دوسرے مقصد سے آیا ہے، اس لیے اس کا کوئی شبہ بھی نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی گورنمنٹ کے خلاف تقریر کرے، لیکن اس نے کہا، نہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بہت خطرناک آدمی ہیں ،اس لیے ان کو تقریر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بالآخر ان سورتی تاجروں نے ( جو گورنمنٹ کی نگاہ میں بھی خاص وقار رکھتے تھے) اس کی ذمہ داری لی کہ کوئی تقریر گورنمنٹ کے خلاف نہیں ہوگی، تب اس نے اجازت دی۔ ان بیچاروں نے یہ ساری بات حضرت کے سامنے بھی ذکر کردی، حضرت نے فرمایا آپ نے اچھا نہیں کیا کہ مجھ سے دریافت کیے بغیر وعدہ کرآئے۔ یہ صحیح ہے کہ گورنمنٹ کے متعلق کچھ کہنے کا اس وقت میرا رادہ نہیں تھا، لیکن اب مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تقریر کروں اور گورنمنٹ کے خلاف کچھ نہ کہوں، لہٰذا آپ حضرات کے لیے اب یہی بہتر ہے کہ میں تقریر نہ کروں اور واپس چلا جاؤں، لیکن رنگون کے وہ حضرات کسی طرح اس پر راضی نہ ہوئے، آخر میں انہوں نے عرض کیا کہ آج حضرت کی تقریر تو ضرورہوگی اور جو حضرت کا جی چاہے وہی فرمائیں، پھر جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گا لیکن حضرت مولانا اس خیال سے کہ کہیں یہ بیچارے مشکلات میں مبتلا نہ ہوں، برابر انکار فرماتے رہے، آخر میں حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب نے بھی ان کی سفارش کی تو بڑی مشکل سے حضرت اس بات پر راضی ہوئے کہ آج تقریر فرمادیں گے، لیکن اس کے ساتھ یہ شرط لگا دی کہ اس کے بعدمیں کوئی تقریر نہیں کروں گا او رپہلے جہاز سے واپس چلا جاؤں گا۔ حضرت مولانا نے (انہیں کی خیر خواہی کے لیے) اس شرط پر اتنا اصرار کیا کہ ان لوگوں کو بادل ناخواستہ مان لینا پڑا وقت آنے پر جلسہ شروع ہوا، حضرت مولانا نے خطبہ مسنونہ اور چند تمہیدی الفاظ کے بعد تقریر اس طرح شروع فرمائی، کہ مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کے گورنر صاحب نے ہمارے محترم میزبانوں سے میرے بارے میں خطرہ کا اظہار کرکے میری تقریر کو روکنا چاہا تھا اور وہ حضرات اپنی سادگی سے یہ وعدہ کر آئے کہ میں گورنمنٹ کے خلاف کچھ نہ کہوں گا، مجھے ان کے اس وعدے کا افسوس ہے، لیکن بہرحال اب مجھے ان کے وعدے کی لاج رکھنی ہے اور اگر یہ وعدہ نہ کر آتے تو میں تفصیل سے بتاتا کہ گورنمنٹ نے پوری اسلامی دنیا کو اور ہمارے ملک ہندوستان کو اور ہم ہندوستانیوں کو کتنا تباہ وبرباد کیا ہے بیان کرنے والے کا بیان ہے کہ قریباً ڈیڑھ گھنٹے تک مولانا یہی بیان فرماتے رہے کہ اگر ہمارے میزبان وعدہ نہ کر آتے تو میں یہ بتاتا اور یہ بتاتا آخر میں فرمایا کہ چوں کہ ہمارے محترم میزبانوں نے گورنر صاحب سے وعدہ کر لیا ہے کہ میں گورنمنٹ کے خلاف کچھ نہ کہوں گا، اس لیے میں مجبور ہوگیا ہوں اور میں اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہتا پھر چند کلمات وفد کے مقصد کے متعلق بھی کہہ کر تقریر ختم فرمائی۔
حضرت مولانا اپنی شرط کے مطابق غالباً دوسرے یا تیسرے ہی دن بحری جہاز سے کلکتہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ حاجی داؤد ہاشم مرحوم نے ( جو وفد کے خاص داعی اور میزبا ن تھے) اپنے خاص ملازم محمد ذاکر صاحب کو بطور خادم کے کلکتہ تک کے لیے حضرت کے ساتھ کر دیا۔ حضرت کا ٹکٹ فرسٹ کلاس کا تھا اور ذاکر صاحب کا ٹکٹ سرونٹ کی حیثیت سے تھرڈ کا تھا۔ حضرت مولانا کی سیٹ جس کمرہ میں تھی اس میں کوئی دوسرا مسافر نہ تھا، اس لیے حضرت چاہتے تھے کہ ذاکر صاحب بھی زیادہ سے زیادہ وقت وہیں حضرت کے ساتھ رہیں، لیکن جہاز کا ”بوائے“ جب آتا تو ذاکر صاحب کے ہر وقت وہاں رہنے پر معترض ہوتا، اس لیے حضرت مولانا نے یہ کیا کہ وہ خود زیادہ وقت تھرڈ کلاس میں ذاکر صاحب کے ساتھ گزارنے لگے۔ بہرحال سفر ختم ہوا اور چوتھے دن کلکتہ کا ساحل آگیا۔ رواج کے مطابق ’بوائے“ فرسٹ کلاس کے مسافروں سے ”انعام“ یا”بخشش“ مانگنے آیا، اگرچہ راستے میں اس نے حضرت مولانا کو تکلیف دی تھی، لیکن انعام مانگنے کے لیے وہ حضرت کی خدمت میں بھی حاضر ہوا، ذاکر صاحب بھی اس وقت ساتھ تھے، انہوں نے عرض کیا کہ حضرت اس نے ہم لوگوں کو بہت تکلیف دی ہے، اسے ایک پیسہ نہ دیجیے، لیکن مولانا نے ہنس کر فرمایا کہ نہیں، ان کا حق ان کو ضرور دیا جائے گا(آگے کی بات سننے سے پہلے یہ ذہن میں رکھ لیا جائے کہ یہ قصہ اس وقت کا ہے جب کہ ایک روپیہ آج کے8-7 روپے کے برابر تھا، اس لیے جو لوگ بڑے سے بڑا انعام بھی بوائے کو دیتے تھے وہ زیادہ سے زیادہ ایک روپیہ ہوتا تھا) اس کے بعد سنیے کہ مولانا نے گن کر چار روپے نکالے اور اس کو دینے لگے، وہ سمجھا کہ یہ مجھ سے مذاق کرتے ہیں او راس طرح میری بد سلوکی کا انتقام لینا چاہتے ہیں، اس لیے اس نے ہاتھ نہیں بڑھایا، حضرت نے مولانا نے فرمایا، لے لو، یہ تمہارے ہی لیے ہیں، آخر بہت جھجھک کر اس نے ہاتھ بڑھایا او رحضرت نے وہ روپے اس کو دے دیے راقم سطور عرض کرتا ہے کہ خود محمد ذاکر صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت سے عرض کیا کہ اس کم بخت نے تو حضرت کو اتنی تکلیف دی کہ خدمت کے لیے مجھے حضرت کے ساتھ بھی نہ رہنے دیا اور حضرت نے اسے اکٹھے چار روپے دے دیے، بڑے سے بڑا انگریز بھی ان لوگوں کو ایک روپیہ سے زیادہ نہیں دیتا۔ حضرت نے فرمایا، بھائی ذاکر! اصل بات یہ ہے کہ یہ بیچارہ سمجھتا تھا کہ انعام بس صاحب بہادروں سے ملتا ہے، ہماری صورتوں سے اُسے کچھ ملنے کی اُمید نہیں تھی، اس لیے اس نے ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ کیا، اب ہمارا سفر تو ختم ہو گیا۔ میں نے یہ روپے اسے اس لیے دیے ہیں کہ اسے معلوم ہو کہ ہم جیسے لوگ انگریزوں سے زائد دے سکتے ہیں۔ اب مجھے اُمید ہے کہ ہماری ایسی صورت والے الله کے کسی بندے کو انشاء الله یہ آئندہ نہیں ستائے گا، بلکہ اس کو آرام پہنچانے کی کوشش کرے گا۔
اسی ایک واقعہ سے حضرت کی عالی ظرفی او رمزاج ایمانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے بعض حدیثوں میں الله کے خاص مقبول بندوں کی یہ نشانی بتائی گئی ہے کہ انہیں دیکھ کر اور ان کے پاس بیٹھ کر خدا یاد آتا ہے اس یاد کے لیے جس ایمانی مناسبت اور جس توفیق کی ضرورت ہے جو لوگ اس سے محروم ہیں ان کا تو ذکر نہیں، لیکن جن کو الله نے اس خیر سے محروم نہیں کیا ہے ان میں سے جس کو بھی حضرت سے قریب ہونے اور خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا ہوگا، یقین ہے کہ اس کو اس کا تجربہ ضرور ہوا ہو گا کہ ان کے پاس بیٹھ کر یا ان کو دیکھ کر دل میں خدا کی یاد اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی تھی خوداپنے بارے میں صفائی سے عرض کرتا ہوں کہ بہت سے امور میں میری رائے حضرت سے متفق نہیں ہوتی او ررائے میں خاصا بعد ہوتا، لیکن جب خدمت میں حاضری ہوتی تو یہ یقین تازہ ہو جاتاکہ یہ الله کے خاص الخاص بندوں میں سے ہیں او رمجھ جیسوں کے لیے ان کی جوتیاں صاف کرنا اور قدموں کا غبار جھاڑنا بھی سعادت ہے۔
الله تعالیٰ اُن کی روح پر رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے اِن ایمانی اوصاف کے ورثہ سے ہم کو محروم نہ کرے۔
مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ
ماہنامہ الفاروق ربیع الاول 1439ھ- جامعہ فاروقیہ کراچی