علمائے کرام کی عزت و توقیر کریں

علمائے کرام کی عزت و توقیر کریں
از قلم:… قاری محمد اکرام اوڈھروال ضلع چکوال
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعددین وایمان کی یہ ذمہ داری ایسے افراد کے ہاتھ آئی جنہیں حدیث کی روشنی میں ”علماء“ کہا جاتا ہے،یہ وہ پاک طینت افراد ہیں جنہوں نے دین کی حفاظت کا بیڑہ اٹھا یا ، دین اسلام پر وارد ہونے والے ہر اعتراض کا قرآن و حدیث کی روشنی میں دفاع کیا، اس کے لیے ہر طرح کی قربانی انہوں نے پیش کی اور کبھی بھی دین کی حفاظت و اشاعت سے غفلت و سستی نہیں برتی۔ انھوں نے دین اسلام کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے عہد سے سینہ بسینہ محفوظ کرکے ہم تک پہنچایا، جان ومال تک کی پرواہ نہیں کی ، لذتِ عیش کو خیرباد کہا ، راتوں کو بیداری میں گذارا ، سفر کی مشقتوں کو برداشت کیا، تاکہ خاتم الرسل محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی بات صحیح سالم ہم تک پہنچ سکے۔ آج بھی علمائے کرام اسی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ دین اسلام کا جو درخت آپ صلی الله علیہ وسلم چھو ڑ کر گئے ہیں وہ ترو تاہ ا ور باقی رہےیہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں علمائے کرام کی خوب ستائش کی گئی اور ان کے مقام و مرتبہ کو بتلایا گیا اور انہیں عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ان کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کیا گیا ۔احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح انداز میں علماء کی فضیلت کو بیان کیا ہے اور ان کی ناقدری کرنے والوں ، ان کی توہین کرنے والوں اور ان سے بغض رکھنے والوں کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں ذکر کی ہیں، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تم میں کے ادنی پر ، پھر فرمایا : اللہ تعالی اس کے فرشتے ، آسمان و زمین والے، حتی کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں عالم کے لیے خیر اور بھلائی کی دعاکرتی ہیں۔(ترمذی حدیث نمبر:2685)ایک حدیث میں فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی )پورا پورا حصہ لیا۔(ابو داود ، باب الحث علی طلب العلم ، حدیث نمبر:2685)
باقاعدہ منظم سازشوں کے ذریعہ علمائے امت پرسے اعتماد ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،دشمنانِ اسلام طویل تجربہ کے بعد اس نتیجہ کو پہنچے ہیں کہ مسلمانوں میں فکری الحاد پھیلانا ہو اوران کو اپنے لحاظ سے مفلوج اور ناکارہ کرنا ہوتوان کا رشتہ علماء سے توڑنا ضروری ہے ، کیوں کہ جب تک ان کا رشتہ علماء سے جڑا رہے گا اس وقت تک ان کے اندردینی حمیت اور ایمانی جوش منتقل ہوتا رہے گا ، اس لیے اب ان کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ عام مسلمان علما ء سے بدظن ہوجائیں اور ان سے اپنا ناطہ توڑلیں،اس کے لیے علماء کو بدنام کرنے کے لیے منصوبے بنائے جارہے ہیں اور ان کی حیثیت کو کم کرنے کے لیے سازشیں کی جارہی ہیں اور عام مسلمانوں کو ان سے بدظن کیا جارہا ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں میں علماء کی عزت و توقیر نہ ہونے کے برابر ہے ، چند دینی معلومات کی بنیاد پر علماء سے بحثیں کرنا روز کا معمول بن چکا ہے ، ان کی شان میں توہین آمیز کلمات کہنا بعض کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے ، علماء کی توہین کرنے اور انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے اور اذیت و تکلیف پہنچانے والوں کے بارے میں رسول اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت وعیدیں ذکر کی ہے ،چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جوشخص ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے علماء کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ یعنی ہمارا اور اس کاکوئی تعلق ہی نہیں ہے۔(مستدرک حاکم حدیث نمبر421)حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی تو اللہ تعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط دیں گے، 1..قحط سالی 2..بادشاہ کی جانب سے مظالم3.. حکام کی خیانت4.. دشمنوں کے مسلسل حملے۔(مستدر حاکم )ان روایات کی روشنی میں آج کے معاشرہ کا جائزہ لیں کہ آج لوگوں نے کس جرأت کے ساتھ علماء کی توہین اور ان پر بے جا تنقید کرنے کو اپنے شیوہ بنالیاہے، جب کہ انہیں خود اپنے اعمال و کردار کی فکرنہیں ۔
اورعلمائے کرام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں ، حق بات کہنے میں تامل سے کام نہیں لیتے ، شرعی مسائل کی وضاحت میں کسی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے ، قرآنی آیات اور اقوال رسول صلی الله علیہ وسلم کوباطل کی ملمع سازی ، جاہل کی بیجا تاویل اورغلو پسند حضرات کی تحریف سے بچاتے ہیں ، ان کی ان حرکتوں کو بلا خوف وخطر لوگوں کے سامنے لاکر ان کے ناپاک عزائم کا قلع قمع کرتے ہیں۔علمائے کرام کی صحبت ، ان سے تعلق خاطر ہماری دینی و دنیاوی زندگی کے لیے مفید ہے ، ان کی معیت سے علم زیادہ ہوتاہے ، آداب و اخلاق سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔اورعلمائے دین روشنی کا مینار ہوتے ہیں،علمائے رشدو ہدایت کا منبع ہوتے ہیں ،علماء صلح وامن کا پیغام ہوتے ہیں،علماء شرافت ومتانت کا عنوان ہوتے ہیں،علماء معاشرے کی خوش نصیبی ہوتے ہیں ،،علماء اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دلیل ہوتے ہیں ،علماء انسانیت کے لئے مربی ہوتے ہیں،علماء آداب انسانیت کی مثال ہوتے ہیں ۔ شریعت میں علماء کا مقام نہایت بلند و برتر ہے، عوام پر ان کی تعظیم ضروری ہے، علماء کو برا بھلا کہنا ان کو گالیاں دینا، ان کی توہین کرنا جائز نہیں، بلکہ بسا اوقات اس سے سلب ایمان کا بھی خطرہ ہے، علماء نے صراحت کی ہے اگر عالم کی اہانت بمقابلہ امر دین و حکم شرع کے ہوتو اس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے،ایسے شخص کو چاہیے کہ صدق دل سے توبہ و استغفار کرے اور تجدید ایمان کرلے۔ نیزجو شخص کسی عالم سے بغیر کسی ظاہری سبب کے بغض رکھے اس پر کفر کا اندیشہ ہے۔( فتاوی عالمگیری)اس لئے علمائے کرام کی تضحیک ان کے منصب کی تضحیک ہے اور ان کے عہدے کی تضحیک اس وراثت اور علم کی تضحیک ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں ملا ہے، ان کے عہدے، منصب، علم اور ان پر اسلام اور امت کی بہتری کی ذمہ داری کی وجہ سے مسلمانوں پر ان کا احترام فرض ہے۔علما ء نے لکھا ہے کہ گم راہ ہونے کی وجوہات میں سے ایک علماء کی توہین کرنا ہے۔ نیز جو لوگ اپنے بڑوں اور بزرگوں کی جائز باتوں اور مبنی برحکمت اقوال و افعال پر تنقید برائے تنقید کرتے ہیں، ان کو دنیا میں نقد یہ سزا دی جائے گی کہ ان کی اولاد بے دین اور ملحد پیدا ہوگی۔(ماہنامہ بینات اکتوبر2009)
آج کل علمائے کرام کی جو ناقدری ،ان کے ساتھ بے ادبی و گستاخی اور انہیں برا بھلا کہنے کا جو رواج بنتا جارہا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، غیر تو غیر، اپنوں نے بھی علماء کو تنقید کا نشانہ بنالیا ہے ، جس کسی مجلس میں بیٹھیں گے جب تک کسی عالم کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نہ نکالیں گے انہیں چین و سکون میسر نہیں آتا ، ایسے قبیح فعل سے اہل علم کی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی، البتہ اپنا ہی خسارہ اور نقصان ہے۔ علماء پر بہتان لگانا اور سنی سنائی باتوں کو ان کی طرف منسوب کرنا اور ہر محفل میں زبان درازی کر کے اپنی علمی شان اور رفعت ِ مکانی ظاہر کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں، ہم سب پر لازم ہے کہ علمائے کرام کا احترام کریں ، انھیں ان کا مقام دیں ، ان پر طعن و تشنیع نہ کریں ، ان کی عزت سے نہ کھیلیں ، اگر کوئی غلطی سرزد ہوتو ان کے لیے ہدایت کی دعا کریں۔لہذا، ان کی تنقیص انتہائی سنگین جرم اور گناہ کا باعث ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم علمائے کرام کی عزت و توقیر کریں اور ان کی اہانت کرکے گناہ میں مبتلا ہونے سے بچیں۔آئیے عہد کریں کہ طاغوتی طاقتوں اور ان سے متاثرہ نام نہاد اہل فکرو دانش کی علماء مخالف تحریر و ں اور بیانات کو یکسر نظر انداز کرکے اللہ اور رسول کے متعین کردہ مقام و مرتبہ کو علمائے کرام کے سر کا تاج بنائیں گے اور اللہ اور رسول سے محبت و الفت کے ساتھ عمومی طور پر تمام مسلمانوں سے اور خصوصی طور پر علمائے کرام سے محبت و الفت رکھیں گے۔