شرور و فتن سے حفاظت کے لیے دعائے انس رضی اللہ عنہ

شرور و فتن سے حفاظت کے لیے دعائے انس رضی اللہ عنہ
جمع وترتیب:… قاری محمد اکرام اوڈھروال ضلع چکوال
یہ فتنوں اور حادثات کا دور ہے ۔ ہر آن دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کیا ہو جائے ۔ مومن کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کائنات میں ایک پتّہ بھی نہیں ہِل سکتا، اس لیے جب وہ پریشان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتا ہے ۔ قرآن و احادیث میں تعوذات اور تحفظات سے متعلق متعدد دعائیں سکھلائی گئی ہیں۔ من جملہ ان کے ایک مشہور دعا وہ ہے جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے، اسے ”دعائے انس“ کہتے ہیں۔اسے صبح و شام پڑھنے سے شرور و فتن سے حفظ و امان نصیب ہوتی ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل)
حضرت ابان سے روایت ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک بار حجاج بن یوسف کے پاس تشریف لے گئے ۔ حجاج نے آپ کو اپنا مال دکھایا، جس میں چار سو گھوڑے تھے ۔ سو گھوڑے دو سال کے بعد تیسرے سال میں داخل تھے ۔ سو گھوڑے دوسرے سال میں داخل تھے ۔ سو گھوڑے پانچویں سال میں داخل تھے اور سو گھوڑے قارح دانت والے تھے ۔ حجاج نے کہا : اے انس ! کیا تم نے اپنے ساتھی کے پاس کبھی اتنا مال دیکھا تھا؟اس خبیث کی مراد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بالکل، اللہ کی قسم ! اس سے بھی اچھا مال دیکھا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا : گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں ؛ ایک وہ گھوڑا جو مالک نے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے باندھا ہو۔ اس کے بال، اس کا پیشاب ، اس کا گوشت اور اس کا خون قیامت کے دن، اس کی میزان کے پلڑے میں رکھا جائے گا۔ دوسرا وہ گھوڑا جس کو کسی نے افزائشِ نسل کے لیے رکھا ہو۔ تیسرا وہ گھوڑا جس کو کسی نے افزائشِ ریاوشہرت اور دکھاوے کے لیے باندھا ہو۔ ایسا شخص جہنم میں جائے گا۔ اے حجاج! تیرے تمام گھوڑے اسی تیسری قسم کے ہیں! حجاج غضب ناک ہوگیااور بولا : اللہ کی قسم! اگر تم نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیر الموٴمنین نے مجھے تیری رعایت کا خط نہ لکھا ہوتا تو تو دیکھتا میں تیرے ساتھ کیا کچھ کرتا! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں (اللہ کی قسم!) میں تجھ سے ایسے کلمات کی بہ دولت پناہ میں آگیا ہوں کہ اب مجھے کسی بادشاہ کے ظلم کا اور کسی شیطان کی سرکشی کا ذرہ برابر بھی خوف نہیں۔ یہ سن کر حجاج کا غصہ چھٹ گیا اور وہ بولا : اے ابو حمزہ ! وہ کلمات مجھے بھی سکھا دیجیے ! حضرت انس نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نہیں ، میں تجھے ان کلمات کا اہل نہیں پاتا۔
راوی حضرت ابان رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ابو حمزہ ! میں آپ سے کوئی سوال کرنا چاہتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : کہو! میں نے عرض کیا : وہ کلمات جو آپ سے حجاج نے پوچھے تھے ، وہ بتا دیجیے ۔ انھوں نے فرمایا : ہاں، اللہ کی قسم ! میں تمہیں ان کا اہل سمجھتا ہوں۔ سنو ! میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی، پھر آپ مجھ سے جدا ہونے لگے ، اس حال میں کہ آپ مجھ سے راضی تھے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے میری دس سال خدمت کی ہے اور میں تم کو چھوڑ کر جارہا ہوں اور میں تم سے راضی ہوں۔ لہٰذا تم(کو یہ عطیہ ہے کہ) جب بھی صبح وشام کا وقت ہوا کرے یہ پڑھا کرو :
”بِسْمِ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ، لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ ، بِسْمِ اللہِ عَلٰی دِیْنِیْ وَنَفْسِیْ ، بِسْمِ اللہِ عَلٰی أَھْلِیْ وَمَالِیْ ، بِسْمِ اللہِ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ أَعْطَانِیْہِ رَبِّیْ ، بِسْمِ اللہِ خَیْرِ الْاَسْمَاء، بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَالسَّمَاء، بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ دَاء، بِسْمِ اللہِ افْتَتَحْتُ وَعَلَی اللہِ تَوَکَّلْتُ ، لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ ، لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ ، لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ ، وَاللّٰہُ أَکْبَرْ ، اَللہُ أَکْبَرْ ، اَللہُ أَکْبَرْ ، اَللہُ أَکْبَرْ ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ، تَبَارَکَ اللہُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرّبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَرَبِّ الاَرْضِیْنَ ، وَمَا بَیْنَھُمَا ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، عَزَّ جَارُکَ ، وَجَلَّ ثَنَاوٴُکَ، وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ، اِجْعَلْنِیْ فِیْ جِوَارِکَ مِنْ شَرِّ کُلِ ذِیّ شَرِّ، وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، اِنَّ وَلِیَّی اللہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ، وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔
ترجمہ…شروع اللہ کے نام سے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے ۔محمد صلی الله علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نہیں ہے قوت مگر اللہ کی امداد سے ۔ اللہ کے نام کی برکت میرے دین اور جان پر۔ اللہ کے نام کی برکت میرے گھر والوں پر اور میرے مال پر۔ اللہ کے نام کی برکت ہر اس چیز پر جو میرے رب نے مجھے عطا کی ہے ۔ اللہ کے نام سے جو سب ناموں سے بہتر ہے۔ اللہ کے نام سے جو زمین وآسمان کارب ہے ۔ اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اللہ کے نام کے ساتھ میں نے شروع کیا اور اللہ پر میں نے بھروسہ کیا۔ نہیں ہے قوت مگر اللہ کی امداد سے ۔ نہیں ہے قوت مگر اللہ کی امداد سے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔اللہ سب سے بڑا ہے ۔اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ حلیم وکریم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ عالی شان و بزرگ ہے ۔برکت والا ہے ۔ اللہ جو ساتوں آسمانوں کا رب ہے اور عرشِ عظیم کا مالک ہے اور تمام زمین اورز مین وآسمان کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو ساری کائنات کا پالنے والا ہے ۔تیری پناہ لینے والاغالب ہوا اور تیری تعریف بڑی ہے ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے اپنی پناہ میں لے لے ، ہر شریر کے شر سے اور شیطان مردود کے شر سے ۔ میرا محافظ اللہ ہے ، جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک لوگوں کی حفاظت کرتا ہے ۔ پھر بھی اگر وہ لوگ منھ موڑیں تو کہہ دیجیے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے ۔اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ (کنزالعمال)