اصلاح معاشرہ اورمسجد کا کردار

اصلاح معاشرہ اورمسجد کا کردار
از قلم:… قاری محمد اکرام اوڈھروال ضلع چکوال
اسلام میں مسجد کو عبادت، تعلیم و تربیت، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مرکزی مقام حاصل رہا ہے، اسلام کی تعلیم کا آغاز مسجد سے ہوا۔ پیغمبر اسلام جناب محمدﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ سے باہر مسجد کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ہے اور پھر مدینہ منورہ میں دوسری ‘مسجدنبویﷺ بنائی۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیمات کی شروعات کیں۔ موجود ہ دور میں مسلمان معاشروں میں معاشرتی ، اخلاقی، سیاسی اور انتظامی بگاڑ عام ہوچکا ہے۔ اس کی ابتدا اُس وقت ہوگئی تھی جب مسلمان کا تعلق مسجد سے کمزور ہوا۔ آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ کی اصلاح ہو تو ہمیں مسجد کے اس بنیادی کردار کو فعّال کرنا ہوگا۔
اصلاحِ معاشرہ کے لیے مساجد کا نمایاں کردار درج ذیل پہلوؤں کا حامل ہے:٭… ظاہری صفائی کے ساتھ وہ باطنی گندگی یعنی شرک، کینہ، حسد ، بغض وغیرہ سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے۔٭… مؤمن جب پانچ دفعہ مسجد میں جاکر اللّٰہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو اس عمل سے مسلمان کا اللّٰہ سے تعلق مضبوط تر ہوجاتا ہے۔ ٭… نما زجیسے اہم اور بنیادی فرض کی ادائیگی سے دوسرے تمام فرائض کو ادا کرنے کا جذبہ خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔٭… باجماعت نماز ادا کرنےسے روح کی تطہیر ہوجاتی ہے، کامل توجہ اللّٰہ کی طرف ہونے سے دل شیطانی وسوسوں اور خیالات سے پاک ہوجاتا ہے۔
مساجد کا یہ کردار دنیا کی تمام عبادت گاہوں سے اعلیٰ اور پاکیزہ ہے۔ مسجد مسلم معاشرے کا مرکز و مرجع ہے، اس لیے بہت سے معاشرتی اُمور اس سے وابستہ ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:٭… مسلمان جب نماز کے لیے مسجد میں جاتا ہے تو اسے تمام مسلمان اسلام کے رشتہ اخوت سے جُڑے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ مسجد میں ذات پات ، رنگ و نسل، علاقے اور ملک، امیر اور غریب میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا ۔٭… جب مسلمان مسجد میں اکٹھے ہوتے ہیں تو آپس میں تمام حقوق و فرائض اَدا ہوجاتے ہیں جیسے ایک دوسرے کو سلام و جواب کرنا، بیمار کی عیادت کرنا، باہم ایک دوسرے کا احترام اور حاجت مندوں کی مدد کرنا شامل ہے اس کے علاوہ دیگر حقوق العباد کا احساس بھی پیدا ہوجاتا ہے۔٭… معاشرے میں مسجد کے ذریعے سے معاشرتی مسائل کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔٭… مسجد میں ہر طرح کے لوگ بو ڑھے جوان بچے آتے ہیں اور ایک دوسرے سے میل ملاقات ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی اخلاقی حالت سامنے آتی رہتی ہے۔ مسجد میں پابندی کے ساتھ اخلاص نیت سےاور پانچ وقت حاضری دینے سے مؤمن کے اخلاق اور کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔ تعمیر کردار میں مندرجہ ذیل باتیں نمایاں ہیں:…
٭… نماز کو باقاعدگی سے وقت پر ادا کرنے سے انسان وقت کا پابند بن جاتا ہے اور وہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور نبھانے کا شعور پاتا ہے۔ اگر انسان معاشرے میں ان باتوں کا عادی ہوجائے تو اس کے اثرات بہت اچھے ہوتے ہیں۔٭… نماز انسان کو بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے٭… مسجد میں انسان، جھوٹ، غیبت، دھوکا دہی، چغلی، رشوت، چوری اور بے حیائی وغیرہ سے جزوی طور پر رُک جاتا ہے اور آخرکار مکمّل طور پر ان معاشرتی برائیوں اور لعنتوں سے اپنے آپ کو بچانے کا عادی ہوجاتا ہے۔٭… آدابِ مسجد کو ملحوظ رکھ کر مسجد میں جانے والا اس تباہ کن عادت سے بچا رہتا ہے،کیونکہ نشہ اور حواس باختگی کے عالم میں اسلام نے نماز کی ادائیگی سے منع کیا ہے اس لیے نمازی منشیات اور نشہ آور اشیا سے بچتا ہے۔٭… اسلامی ثقافت مسلمان کی زندگی کی عکاس ہوتی ہے اس سے مراد وہ اعمال و افعال ہیں جو اسلام کی آمد کے بعد وجود میں آئے اور ان کا تعلق مسجد سے ہے:…
٭… مسجد میں نمازِ جمعہ، رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پر ، زکوٰۃ و صدقات اور خیرات دینے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے جس سے بہت سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔٭… مسلمان جب بھی مسجد کا رُخ کرتا ہے تو وہ اپنے لباس، وضع قطع اور دیگر اُمور کا اہتمام ضرور کرتا ہے، اس طرح مسلمانوں کی ایک ثقافت باقی رہتی ہے جو صرف مسجد کی بدولت ہے۔٭… مسلمان جب مسجد میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے مصافحہ اور معانقہ ضرور کرتے ہیں، خاص طور پر عیدین اور جمعہ کےموقع پر تو ناراض لوگ بھی آپس میں شیروشکر ہوجاتے اورایک دوسرے کو عیدین کی مبارک باد دیتے ہیں جو معاشرے میں نفرتوں کےخاتمہ کا ذریعہ ہے۔٭… مسجدایک ایسا ادارہ ہے جو تعلیم و تربیت میں بنیادی اور اہم کردار کا حامل ہے۔ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ پہلی تین صدیوں میں مسجد ہی وہ درسگاہ تھی کہ تمام علوم و فنون اس میں پڑھائے جاتے تھے اور سب سے پہلی درس گاہ اصحابِ صفہ کے نام سے مسجد نبویﷺ میں قائم ہوئی تھی۔ مسجد میں درسِ قرآن و حدیث کے ساتھ فقہ کے مسائل بیان کرنے کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ علم و عرفان کا بہت سا حصّہ مسلمان مسجد سے ہی سیکھتے ہیں اور ایک زمانے میں پاکستان میں مسجد وں میںسکول کا قیام بھی ہوا تھا جو بعض علاقوں میں آج تک چل رہا ہے۔
٭… مسجد دعوت و تبلیغ کا مرکز اور اسلامی معاشرے کا محور رہی ہے۔ مسجد ہی مسلمانوں کی ظاہری، باطنی اور مادی آبیاری اصلاح کرتی رہی۔ نبی اکرمﷺ کے زمانے سے لے کر خلفا ئے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اور بعد کے دور میں بھی ایسا ہی کردار ادا کرتی رہی۔ دشمنوں نے اس کی اہمیت ، مرکزیت اور ہمہ گیریت کو سمجھ کر اس کے خلاف گہری اور پوشیدہ سازشیں شروع کردی تاکہ اس کے کردار کو ختم یا کم از کم کمزور ضرور کردیا جائے۔٭… اس سے مراد وہ عوامل ہیں جومسلمانوں کے اندر پائے جاتے ہیں جنہوں نے مسجد کے مقام، مقصد اور اہم پیغام کا گلا دبا دیا ہے۔ چند درج ذیل ہیں:…
٭… فرقہ واریت سے اُمّت مسلمہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور اتحاد پارہ پارہ ہے۔مذہبی گروہ بندی اور مسلک پرستی نے تباہی مچادی ہے، جب سےمسلمان تقسیم ہوئے ہیں تو ہر ایک فرقہ کی الگ مسجد ہے جہاں مخصوص سوچ و فکر اور مسلک کا پرچار کیاجاتا ہے۔ دوسروں کے خلاف منبر و محراب سےزہر اُگلا جاتا ہے اوراس تعصّب کےنتیجہ میں مسلم معاشرہ بے چینی اوربربادی کا شکار ہوچکا ہے۔٭… مسجدوں میں مقررکئے جانے والے امام و خطیب زیادہ تر کم تعلیم یافتہ اور خاص مسلک کے پیروکار ہوتے ہیں جو مثبت رول کی بجائے منفی رول ادا کرتے ہیں، وہ اصلاح کے بجائے بگاڑ اور انتشار پیداکرتے ہیں، اس لیےمعاشرہ دین سےبیزار ہوتا جارہا ہے ۔ خطبا کی تقریریں غیر معیاری اور نامناسب ہوتی ہیں، اکثر من گھڑت موضوع واقعات و روایات بیان کرتے ہیں۔ اختلافی مسائل کو ہوا دےکر نفرت کا بیج بوتے ہیں۔اس صورتحال میں خصوصی اصلاح اور توجہ کی ضرورت ہے۔٭… مسجد مقبرہ جات کو یکجا کرکے اس کے روشن کردار کو بے نور کردیا گیا ہے جس سے دعوتی و اصلاحی عمل رک گیا خدا پرستی کی جگہ قبر پرستی و دیگر خرافات نے لے لی ہے۔٭… مسلمانوں میں دولت اور دنیا داری کی ہوس عام ہوچکی ہے۔ معاشرہ کا ہر فرد دولت جمع کرنے میں عظمت اور اپنی توقیر خیال کررہا ہے اور وہ ارب پتی بن کر بھی اپنے آپ کو کنگال تصور کرتا ہے اور ہر جائز و ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے کی فکر میں ہے۔ روحانیت اور آخرت کا خیال اس کے دل سے نکل چکا ہے۔
مسجد کے مرکزی کردار کے خلاف بیرونی اسباب بہت زیادہ ہیں جن کا احاطہ ناممکن ہے مگر جزوی طو رپر ان کے ذکر سے مخالفین کی سوچ اور فکر کا اندازہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ مسجد کے خلاف سازشیں اور پروگرام بنانے والوں کے چند مقاصد یہ ہیں… کفر و شرک اور گمراہی پھیلانے کے لیے ایک اڈا بنانا۔٭… مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دینا اور انتشار پھیلانا۔٭… شرپسند اور سازشی ٹولے کو مذہبی لبادے میں پناہ دینا۔٭… تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اہم کردار عیسائیوں اور نصرانیوں کا ہے:… مساجد کو بند کرنا، انہیں گرجا گھروں میں تبدیل کرنا ۔ الجزائر میں بھی بہت سی مساجد کو عیسائیوں نے اپنی عبادت گاہوں میں تبدیل کردیا اور ہزاروں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا۔ ان کا یہ کردار اس وقت ظاہر ہوا جب انہوں نے 1632ء میں الجزائر پر قبضہ کیا۔٭… : یہودیوں کی اسلام دشمنی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے یہودیوں نے تحویل قبلہ کےموقع پر پروپیگنڈہ کیا اور مسلمانوں کے دلو ں میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہودیوں نے ہمیشہ مسجدوں کی بے حرمتی کی اور مسلسل مساجد کے خلاف ان کی ناپاک سازشیں جاری رہی کیونکہ یہ مسلم معاشرے کا محور تھی۔آج کے دور میں مسجدِ اقصیٰ کےساتھ یہودی جو کچھ کررہے ہیں ، اس سے ان کی مساجد دشمنی بالکل ظاہر ہوجاتی ہے۔٭… انتہا پسند اور متعصّب ہندو اور سکھ کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے بھی شعائر اسلامیہ کے خلاف سنگین معاندانہ رویہ اپناے رکھا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ہزاروں مساجد کو گرایا ،جلایا گیا یا جانوروں کے باڑے میں تبدیل کردیا گیا اور بابری مسجد کی شہادت ہندوؤں کے خبثِ باطن کو واضح کردیتی ہے۔ سکھوں نے بھی مساجد کی بے حرمتی کی اور ہمیشہ مسجد دشمنی میں پیش پیش رہے۔ قادیانی مذہب کے پیروکاروں نے یہود و نصاریٰ کا آلہ کار بن کر مسلمانوں کے عقائد اور ایمان کو متزلزل کیا۔ انتشار پیدا کیا اورمساجد کا استعمال کرکے سادہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور مسجد کے کردار کو مثبت کی بجائے منفی رنگ دے دیا ہے۔یہ چند اندرونی و بیرونی اسباب ہیں جو مساجد کے کردار کوبے جان بنا رہے ہیں۔دورِ حاضر میں ہماری اجتماعی زندگی کا شیرازہ بکھر چکا ہے جو اُمت مسلمہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ یہ اُمت واحدہ اب مختلف فرقوں، گروہوں، گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔یقیناً اس دور کا آغاز مسجد کے ساتھ مضبوط تعلق سے ہوا تھا۔ آج اگر ہم اپنے بگڑے اور تباہ حال معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پھر سے معاشرے میں مسجد کی اجتماعیت، مرکزیت کا وہ مقام واپس لانا ہوگا۔
خلاصہ کلام اسلامی معاشرے میں مساجد کا کردار نمایاں اور عیاں ہے۔ آج کل کے معاشرے میںافراتفری ہے انسانیت کا خون ارزاں ہے، شدت پسندی، دہشت گردی اور عدم برداشت کی فضا قائم ہے۔ غربت و افلاس مسلمانوں کا مقدر بن گیا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں شہروں اور قصبوں میں لاکھوں مساجد ہیں مگر اُن سے اصلاحِ معاشرہ کا کام نہیں لیا جارہا۔ منبر و محراب سے اُٹھنے والی صدا کچھ اور ہے۔ آج کے اس پُرفتن دور میں ہمیں اصلاحِ معاشرہ کے لیے مسجد کے کردار کو پھر سے فعال بنانا ہوگا او ر اِنہی خطوط پر عمل پیرا ہونا ہوگا جنہیں اپنا کر عرب کے بدو دُنیا کے امام اور رہبر بن گئے۔